اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات روز بروز فروغ پا رہے ہیں، کہا کہ ایرانی عوام پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور یہ پاکستانی عوام کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی رشتے کا نتیجہ ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ تاریخی، ثقافتی اور علاقائی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے مفادات کے لیے تہران اور اسلام آباد کے تعلقات کو اور زیادہ مضبوط ہونا چاہیے اور آج خوش قسمتی سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کو خاص طور پر اقتصادی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے مناسب موقع پیدا ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ ایران پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے، کہا کہ دونوں ممالک علمی و ثقافتی میدانوں میں بھی اپنے تعاون میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بینکنگ تعلقات، اقتصادی تعلقات کی اصل بنیاد ہیں اور بینکنگ کے شعبے میں معاہدوں پرعمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے خصوصی کوششیں کی جانی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے امن اور استحکام کو اپنا امن و استحکام سمجھتا ہے، ہم گوادر کی بندرگاہ کو چابہار بندرگاہ کی رقیب نہیں سمجھتے ہیں اور پاکستان کے جس حصے میں بھی ترقی ہو ہم اسے اپنی ترقی سمجھتے ہیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ ایران کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں دوستی اور سلامتی کی سرحدیں ہوں اور آج اس سلسلے میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں کوششوں کو بدستور جاری رہنا چاہیے۔
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس ملاقات میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہم پاکستان اور ایران کو ایک قوم، ایک ملک اور ایک حکومت سمجھتے ہیں، کہا کہ ہماری ثقافت، روایات اور اقتصاد ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہیں اور ہم تہران کے ساتھ اپنے تعاون کی سطح کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔
نواز شریف نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کی سطح ان کی توانائیوں سے کم ہے، مزید کہا کہ ہمیں اس سلسلے میں اپنی کوششوں میں تیزی لانی چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے تاجر اور کاروباری حضرات زیادہ آسانی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی چابہار بندرگار کی ترقی کو ایک مثبت تبدیلی سمجھتا ہے اور یہ گوادر بندرگاہ اور ایران پاکستان اور چین کوریڈور کا تسلسل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169