21 اکتوبر 2026 - 12:15
ریاض سے بھاگنے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالر ہو گئی

ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور تجارتی پروازوں کی معطلی نے سعودی عرب سے نجی طیاروں کے کرائے میں لینے کی قیمت شدت سے اضافہ کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ "ایس بی ایس نیوز" کے مطابق "لکس ایوی ایشن" نے بتایا کہ قصیم ہوائی اڈے سے جنیوا تک 14 نشستوں والے طیارے کا کرایہ گذشتہ ہفتے 94 ہزار یورو ہو گیا، جو کچھ دن پہلے 60 ہزار یورو تک پہنچا گیا تھا؛ یعنی 57 فیصد اضافہ۔

10 اکتوبر سے یمن کی مسلح افواج کے حملوں کے بعد شاہ خالد ہوائی اڈے کی تجارتی پروازیں مکمل معطل ہیں، جس سے طیاروں کی طلب بڑھ گئی۔ امیر افراد قصیم کے چھوٹے ہوائی اڈے سے نجی طیارے لے رہے ہیں، جبکہ کم وسائل والے لوگ گاڑیوں کے ذریعے بحرین یا قطر جا رہے ہیں۔

"ایکسس جیٹ" کے سی ای او چارلس رابنسن کے مطابق سعودی عرب سے یورپ تک کرایہ ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر اور متحدہ عرب امارات تک 30 سے 50 ہزار ڈالر ہے۔ مانگ زیادہ مگر طیارے محدود ہیں۔

قیمتوں میں اضافے کی ایک اور وجہ جنگ کے خطرے کا انشورنس پریمیم ہے جو 18 نشستوں والے طیاروں کے لئے 20 ہزار ڈالر فی پرواز تک پہنچ گیا ہے۔

جدہ اور دمام کے ہوائی اڈے موجود ہیں مگر غیر ملکی ایئرلائنز نے وہاں تک کی پروازیں بھی منسوخ یا محدود کر دی ہیں، اور سکیورٹی انتباہات کی وجہ سے صاحب حیثیت مسافر تجارتی پروازوں کا خطرہ مول نہیں لے رہے ہیں۔ زمینی سفر وقت طلب اور خطرناک ہے، اسی لئے نجی طیارے واحد محفوظ اور تیز راستہ بن گئے ہیں۔

پروازوں میں یہ خلل یمنی ڈرون اور میزائل حملوں کا نتیجہ ہے جن کے نتیجے میں 10 اکتوبر کو 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، اور اس کے بعد شاہ خالد ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا اور 82 فیصد تک پروازیں منسوخ ہوئیں۔ یمنی افواج نے ریاض کو "غیر محفوظ دارالحکومت" قرار دیا اور ایئرلائنز اور سرمایہ کاروں کو خبردار کیا کہ اس شہر کا دورہ کرنے سے پرہیز کریں۔

انصار اللہ یمن نے سعودی آرامکو کمپنی کے حصہ داروں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے حصص فروخت کریں کیونکہ یہ کمپنی محفوظ نہیں رہی اور یمن کی شرائط کی تکمیل تک میزائل اور ڈرون حملہ کا نشانہ بنتی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha