17 ستمبر 2016 - 16:06
امام ہادی علیہ السلام کی نظرمیں مال حرام کھانے کے نقصانات

امام ہادی علیہ السلام نےمال حرام کوبے اہمیت اوربے برکت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اوراسے ورثہ میں چھوڑنا بے فائدہ ہے اوریہ انسان کو جہنم کی آگ کے نزدیک کردیتا ہے۔

ابنا: امام ہادی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے امام ہادی علیہ السلام کی نظرمیں حرام مال کھانے کے نقصانات کے بارے میں کچھ مطالب پیش خدمت ہیں۔
مسلمانوں کی ایک اہم ذمہ داری حلال مال کھانا ہے۔امام ہادی علیہ السلام حرام مال کے بارے میں فرماتے ہیں: «اِنَّ الحَرامَ لا ینمى وَاِن نَمى لا یبارَک لَهُ فیهِ وَما اَنفَقَهُ لَم یؤجَر عَلَیهِ وَما خَلَّـفَهُ کانَ زادَهُ اِلَى النّارِ؛﴿ کافى، ج 5، ص 125، ح 7.﴾ بتحقیق حرام مال میں اضافہ نہیں ہوتا ہےاوراگراضافہ ہو بھی تو اس میں برکت نہیں ہوتی ہے اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو اس کا ثواب نہیں ملتا ہے اور اگرورثے کے طورپربچ جائے تو یہ جہنم کی آگ کے نزدیک کردیتا ہے۔
غالبا ذمہ دارحکومتیں اورآرگنائزیشنز چوری کرنے اورناجائز اورغیرقانونی طریقوں سے دولت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کاروائیاں کرتی ہیں۔اگردین اسلام نے مال حرام سے استفادہ نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان اس دنیا میں بھی حرام مال کھانے کے نتائج سےمحفوظ رہے اوراس جہاں میں بھی عذاب سےدوچارنہ ہو۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ؛[نساء/29] اے ایمان والو تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھایا کرو مگریہ کہ آپس کی رضا مندی سےتجارت کرو﴿توکوئی حرج نہیں ہے﴾۔۔۔
حرام مال کھانے کا ایک اورمنفی اثریہ ہے کہ یہ انسان کے اعتقادات پرتاثیررکھتا ہے۔ جو شخص حرام مال کھاتا ہےاس کا دل فاسد ہوجاتا ہے اوروہ پھرحق کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ جس طرح کہ امام حسین علیہ السلام نےعاشور کے دن دشمن کے لشکرکےدلوں پران کی بات کے اثرنہ کرنے کی علت کو ان کا حرام مال کھانا قراردیا تھا۔﴿ بحار الأنوار ج‏45،ص8.﴾
امام ہادی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ «الْحِكْمَةُ لَا تَنْجَعُ‏ فِي‏ الطِّبَاعِ‏ الْفَاسِدَةِ﴾ فاسد دلوں پرحکمت کا کوئی اثرنہیں ہوتا ہے۔﴿ أعلام الدين في صفات المؤمنين حسن بن محمد دیلمی، ص311﴾
امام ہادی علیہ السلام ایک اورحدیث میں فرماتے ہیں کہ«إِنَ‏ أَعْظَمَ‏ الْحَسَرَاتِ‏ يَوْمَ‏ الْقِيَامَةِ حَسْرَةُ رَجُلٍ كَسَبَ مَالًا فِي غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ- [فَوَرَّثَهُ رَجُلًا] فَوَرِثَهُ رَجُلٌ فَأَنْفَقَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ فَدَخَلَ بِهِ الْجَنَّةَ وَ دَخَلَ الْأَوَّلُ بِهِ النَّار﴿نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص552﴾ قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس مرد کی حسرت ہوگی کہ جس نے اللہ کی رضا کے علاوہ مال کمایا ہو اورپھراسے کسی کے لیے ورثے میں چھوڑا ہوا تاکہ اس کا وارث اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تاکہ اس کے ذریعے وہ جنت میں چلا جائے لیکن وہ شخص جہنم میں جائے گا۔
اس دورمیں مال حرام کے مصادیق میں سےخمس اورزکواة پرتوجہ نہ دینا،رشوت لینا،غلط کام کے مقابلے میں حق السکوت لینا وغیرہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169