23 مارچ 2016 - 13:43
شامی بحران کو سیاسی حل روس ،ایران اورحزب اللہ کا مشترکہ موقف

لبنان میں روس کے سفیر نے تحریک مقاومت حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے حالیہ بیان کہ جس میں انہوں نے کہا تھاکہ دمشق اور اسکے اتحادی بحران شام سے متعلق یکساں موقف رکھتے ہیں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی فوج کو شام سے نکالے جانے کا فیصلہ سبھی جماعتوں کے ساتھ تعاون ومشاورت کے بعد لیاگیا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المنار ٹی وی کے ساتھ برائے راست انٹریو میں’’ ایلکزنڈرساسکن ‘‘نے تحریک مقاومت حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے حالیہ بیان کہ جس میں انہوں نے کہا تھاکہ دمشق اوراسکے اتحادی بحران شام سے متعلق یکساں موقف رکھتے ہیں پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ روسی فوج کو شام سے نکالے جانے کا فیصلہ سبھی جماعتوں کے ساتھ تعاون ومشاورت کے بعد لیاگیا ۔

انہوں نے کہاکہ ماسکو حکومت دمشق کےساتھ پوری طرح تعاون کررہی ہے ۔

انہوں نےکہاکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم بشارالاسد حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور مقاومتی محوردمشق حکومت کےساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے اوراسطرح ہم سیاسی اورزمینی سطح پر شامی حکومت کےساتھ تعاون کررہے ہیں ۔

انہوں نےکہاکہ شامی عوام انتخابات کے ذریعےاگر کسی بھی شخص کو صدرکے طورپر منتخب کرتی ہے توہم اس کا خیر مقدم کریں گے ۔

انہوں نےکہاکہ شامی بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنا روس ،ایران اورحزب اللہ کا مشترکہ موقف ہے ۔

شامی حکومت اورمختلف حزب اختلاف گروہوں کے درمیان جینوامیں جاری مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ دہشتگرد گروہوں اوران کی اتحادی میدان جنگ میں بری طرح شکست کھا چکے ہیں اوریہ دہشتگرد مذاکراتی عمل کی حمایت نہیں کرتے ۔

انہوں نےمزیدکہاکہ شام میں سرگرم دہشتگرد گروہوں اوران کے اتحادیوں نے میدان جنگ میں جو کچھ کھویا ہے وہ اسے سیاسی طریقے سے حاصل کرنے کے اہل نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲