اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایسے عالم میں جب شام اور حزب اللہ، القلمون سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ترکی کے ذرائع ابلاغ نے شام پر اس ملک کے ممکنہ حملے کی خبر دی ہے - اطلاعات کے مطابق ترکی کے بعض ذرائع ابلاغ نے شام میں تکفیری گروہوں کے لئے ترکی اور سعودی عرب کی امداد جاری رکھنے اور اس ملک پر ترکی کے ممکنہ حملے کے بارے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کی خبر دی ہے- ترک صحافی گوکخان باجیک نے بیرگون اخبار میں ایک مقالے میں لکھا ہے کہ ترکی نے پہلی بار اپنی خارجہ پالیسی میں ایک پڑوسی ملک کی حکومت گرانے کی کھل کر حمایت کی، اس کے مخالفین کو ٹریننگ دی اور شام میں موجود دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سمیت ہرطرح کی مدد کی- گوکخان باجیک نے حالیہ دنوں میں شام میں ترکی کی فوج کے داخل ہونے کے امکان کے سلسلے میں ہونے والی بحثوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام ترکی کو ایک نئی اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار کردے گا- ترکی سے شائع ہونے والے روزنامہ حریت نے بھی شام کے سلسلے میں ترکی اور سعودی عرب کے موقف میں نزدیکی کو شر کی قوتوں کے درمیان اتحاد سے تعبیر کیا اور روزنامہ بیرگون نے اس مسئلے کو شام میں جنگ کے لئے ترکی اور سعودی عرب کی آمادگی قرار دیا ہے- ترکی کے اس اخبار کے مطابق انقرہ اور ریاض کے درمیان یہ معاہدہ، مار چ کے مہینے میں ترک وزیر اعظم اردوغان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر انجام پایا ہے-
.....
/169