26 اپریل 2015 - 04:51
یمن پر سعودی تسلط کا خواب پورا نہیں ہو گا

یمن پر سعودی جارحیت ناکام ہونے اور حملوں کے خاتمے کے اعلان کے بعد ریاض نے "امید کی واپسی" اور عام شہریوں کی حمایت کے فریبی نعروں سے جنگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے مختلف علاقوں پر ستائیس دنوں تک شدید بمباری کے نتیجے میں بھاری تباہی آئی ہے اور بہت سے شہری شہید، زخمی اور بے گھر ہو گئے ہیں- رپورٹوں کے مطابق ان حملوں میں جارح سعودی فوجیوں نے بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہتھیار بھی استعمال کئے ہیں جو غزہ اور لبنان کی جنگوں میں غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھوں تجربے کے طور پر استعمال ہونے والے مہلک ہتھیاروں کی یاد دلاتے ہیں- صیہونی حکومت نے انہی مہلک ہتھیاروں کے ذریعے یمن کے مظلوم عوام کے قتل عام کا کھل کر خیر مقدم بھی کیا- قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یمن پر حملوں کے خاتمے کے اعلان کے بعد سعودیوں نے دعوی کیا کہ اس جنگ میں اس کے مد نظر مقاصد پورے ہو گئے ہیں- مبصرین کے بقول اگر سعودیوں کے اس دعوے کو صحیح مان لیا جائے تو پھر اس صورت میں سعودیوں کی دوبارہ جارحیت کے اسباب کیا ہیں؟ یمن کے ایک معروف تجزیہ نگار علی جاحز کے بقول یمن کو سعودی عرب اور امریکہ کی سرپرستی میں لانا اب ناممکن ہے اور جارح طاقتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ یمن کے عوام اب کسی بھی ملک کی بالا دستی کو قبول نہیں کریں گے۔ اگر یمن پر سعودی جارحیت کے مقاصد کو چند جملوں میں خلاصہ کرنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ آل سعود یمنی عوام ،حکومت اور فوج سے انتقام لینا چاہتی ہے کیونکہ یمن اب سعودی عرب کے تسلط اور سرپرستی سے نجات پا چکا ہے بالخصوص ایسی حالت میں کہ جب فوج، اور عوامی کمیٹیوں نے شمالی اور جنوبی یمن کے اکثر مقبوضہ علاقوں کو القاعدہ اور دوسرے دہشتگردوں سے بھی آزاد کرا لیا ہے- یہ وہی دہشتگرد ہیں، جو مختلف ملکوں میں عدم استحکام پیدا کر نے اور انھیں تقسیم کرنے کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں- ان دہشتگرد گروہوں کا کام مختلف اسلامی ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کرنا اور انھیں غیر مستحکم باقی رکھنا ہے- عراق، شام ، یمن، سومالیہ اور دوسرے ممالک، سعودی حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کے سفاکانہ اقدامات کی واضح مثال ہیں-

.......

/169