24 اپریل 2015 - 11:21
مذاکرات سے جوہری مسلے میں ابھامات دور ہوجائیں گے: لاریجانی

ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں سے مغربی ممالک نے ایرانی پرامن جوہری مسلے میں رکاوٹیں حائل کی ہیں تاہم اسلامی جمہوریہ مذاکرات کے ذریعے سے تمام ابہامات کو دور کرنا چاہتا ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں سے مغربی ممالک نے ایرانی پرامن جوہری مسلے میں رکاوٹیں حائل کی ہیں تاہم اسلامی جمہوریہ مذاکرات کے ذریعے سے تمام ابہامات کو دور کرنا چاہتا ہے.

ان خيالات كا اظہار 'علي لاريجاني' نے گزشتہ روز ايران كے شہر 'شاہرود' ميں كيا جہاں وہ آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ كے دوران شاہرود كے 1027 شہداء كي ياد ميں منعقد ہونے والے تقريب كے شركاء سے خطاب كررہے تھے.
انہوں نے مغربي ممالك كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ ان لوگوں كو اس بات كا ادراك ہونا چاہئے كہ ايران جوہرے مسلے پر ان كي سوچ غلط تھي اور ان كو ايران كے خلاف دوہرہ رويہ نہيں كرنا چاہئے تھا.
انہوں نے مزيد كہا كہ جوہري مذاكرات بہت پيچيدہ ہيں اور اس كے لئے زيادہ وقت چاہئے اور اس كے ساتھ دوسرے فريق كو بھي يہ بات سمجھ آگئي كہ وہ مذاكرات كو نظرانداز نہيں كرسكتے.
ايراني اسپيكر نے كہا كہ رہبر معظم انقلاب اسلامي 'حضرت آيت اللہ العظمي امام خامنہ اي' نے سوئٹزرلينڈ اعلاميہ كے بعد اپنے خطاب ميں اہم پہلووں اور تجاويز پر اشارہ فرمايا جو نہايت قيمتي اور سنجيدگي كا حامل ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ جوہري سرگرمي ايران كا اہم ترين مسلہ ہے جو سپريم ليڈر كي حمايت اور ان كي ہدايات سميت شہداء كے خون اور قوم كي معاونت سے آج ايران نے جوہري ٹيكنالوجي حاصل كرلي ہے.
يمن كے حوالے سے علي لاريجاني نے اس عربي ملك ميں ايران كي كسي بھي مداخلت كو مسترد كرتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ہميشہ مظلوم اقوام كي حمايت جاري ركھے گا اور ہم فخر كرتے ہيں كہ فلسطين اور مصر جيسي قوموں سے معنوي ہمدردي ركھتے ہيں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲