اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اس اجلاس میں قیادت ایران کے نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان، شام کی طرف سے اس ملک کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد اور سوئیٹزرلینڈ کی جانب سے اس ملک کی وزارت خارجہ کے انساندوستانہ دوستانہ توسیع و تعاون کے ادارے کے سربراہ مانوئل بسلر نے کی- اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے نائب وزیرخارجہ وزیرخارجہ فیصل مقداد نے کہا کہ بحران شام کے آغاز سے ہی شام میں دہشتگردوں کی حمایت بند اور اس ملک میں انسانی المیے کی روک تھام کے لئے عالمی فریقوں کی جانب سے انتباہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا- انھوں نے کہا کہ بحران شام کا چار سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے ساتھ پوری دنیا داعش، النصرہ اور ان جیسے دہشتگرد گروہوں کے خطرے کو بھانپ چکی ہے اور بعض مغربی ملکوں کے مواقف میں کسی حد تک تبدیلی بھی آئی ہے- اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوئیٹزرلینڈ کے وزارت خارجہ کے بشردوستانہ توسیع و تعاون کے ادارے کے سربراہ مانوئل بسلر نے بھی اس اجلاس کی میزبانی کے لئے ایران کی قدردانی کرتے ہوئے شام میں انسانی المیے کی روک تھام کےلئے پناہ گزینوں کی امداد کی ضرورت پر تاکید کی اور شام کی ارضی سالمیت پرزور دیتے ہوئے بحران شام کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کا مطالبہ کیا- اجلاس سے ایران کے نائب وزیرخارجہ عبداللہیان نے بھی خطاب کیا جنھوں نے متاثرہ افراد کی غیرجانبدارنہ طور پر امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، انسان دوستانہ امداد کی ترسیل و تقسیم کے سلسلے میں شام کی حکومت اور ہلال احمر کمیٹی کے ساتھ تعاون سے متعلق اپنے تجربات، سوئیٹزرلینڈ کو بھی منتقل گا- واضح رہے کہ ان تینوں ملکوں کے حکام کے درمیان تہران میں سہ فریقی اجلاس بدھ کے روز بھی تشکیل پائے گا جس میں سیاسی عمل کو مستحکم بنانے، دہشتگردی کے خلاف مہم اورعلاقے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں مدد کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا-
.......
/169