اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنے، عدم واقفیت کی بناپر جوانوں کی ان گروہوں میں شمولیت کی روک تھام کے سلسلے میں مشترکہ طور پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز آسٹریلیا کی وزیر خارجہ "جیولی ایزابل بشپ" سے تہران میں ملاقات کے دوران کہا کہ دہشت گردی، علاقے اور بشریت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حکومتوں اور قوموں کو چاہئے کہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے مقابلے میں بروقت اور یکساں ردعمل ظاہر کریں ۔
صدر مملکت نے جو ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سربراہ بھی ہیں مختلف مسائل کے حل کے لئے سیاسی اور منطقی بات چیت پرزوردیا اور کہا کہ یمن کے بحران کی راہ حل بھی سیاسی ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہ یمن کے مسئلے کے حل کے لئے عالمی برادری میں کوئی معقول تحرک نظر نہیں آرہا ہے کہا کہ اس وقت یمن کے لئے حتی دوائیں اور غذائی اشیاء بھی ارسال کرنے میں بہت زیادہ دشواریا ں پیش آرہی ہیں۔
ڈاکٹر روحانی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان، جامع ایٹمی سمجھوتہ کے بارے میں کہا کہ ایران اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیاں آئی اے ای اے کے زیر نگرای انجام دے رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر حتمی سمجھوتہ ہوجاتا ہے تو یہ ایران، گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک اور پورے علاقے بلکہ پوری دنیا کے فائدے میں ہوگا۔
.......
/169