8 اپریل 2015 - 16:52
یمن کے لوگوں کو فضائی بمباری کا نشانہ نہیں بننا چاہیے: ڈاکٹر ظریف

ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کو کو یمن بحران حل کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ یمن کے بحران سے متعلق گفتگو کرنے کے لیے بدھ کو دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔
انہوں نے ملاقات کے دوران گزشتہ روز ایران اور ترکی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ 'ہمیں ایک سیاسی حل کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا'۔ 'یمن کے لوگوں کو فضائی بمباری کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔'
ڈاکٹر ظریف نے بتایا کہ وہ یمن میں سیز فائر کیلئے چار نکاتی منصوبے کے حامی ہیں اور یہ کہ انہوں نے پاکستانی، ترک اور عمانی قیادت تک یہ نکات پہنچا دیے ہیں۔
پاکستان کے مشیر خارجہ نے کہا کہ ملاقات میں دوستانہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو یمن صورتحال پر تشویش ہے۔'دہشت گردی اور انتہا پسندی پر پاکستان اور ایران ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں'۔
سرتاج عزیز نے بتایا کہ ملاقات میں سرحدی نظام کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا دو روزہ دورہ اسلام آباد یمن بحران پر علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے اہم مانا جارہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کل وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔
اسلام آباد آمد سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے عمان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یمن میں انسانی مشکلات اور خطے کے عمومی حالات پر مشاورت کی۔
خیال رہے کہ ایرانی وفد کی آمد سے ایک دن قبل پیر کو پاکستان سرحد کے قریب آٹھ ایرانی محافظوں کی شہادتیں واقعی ہوئی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ چند ہفتے قبل ہونا تھا تاہم جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں تاخیر کا شکار ہوگیا۔
ایران نے اس سے قبل بھی پاکستان کے ساتھ مل کر یمن تنازع کے خاتمے کے لیے کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲