اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے داعش کے لئے جنسی خدمات پیش کرنے والی لڑکیوں کا ذکر کرتے ہوئے سارا الزام ان کے والدین کے سر ڈال دیا- انہوں کہا کہ آج جوان لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح انتھا پسندی کی زد میں آگئی ہیں-
ڈیوڈ کیمرون نے شامی دہشت گردوں کے لئے برطانوی حکومت کی جانب سے چار سال کےعرصہ کے دوران کی جانے والی حمایت کی طرف کسی قسم کا کوئی اشارہ کئے بغیر کہا کہ نوجوانوں کو داعش میں شمولیت سے روکنے کے لئے شاید کئی دہائیوں تک کوششیں کرنے کی ضرورت ہے-
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ گھرانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو داعش میں شامل ہونے سے روکیں- انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر انتھا پسندی کا مقابلہ کرنا چاہیے-
ڈیویڈ کمیرون نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پولیس اور بارڈر سکیورٹی فورسز سے حل نہیں ہوگا بلکہ تمام لوگوں اور اداروں کو مل کر انتھا پسندی سے مقابلہ کرنا ہوگا-
واضح رہے مبینہ طور پر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کی غرض سے جانے والے تین نوجوانوں کی گرفتاری اور تین برطانوی لڑکیوں کے ترکی فرار کرکے شام میں داعش میں شامل ہونے کے بعد ڈیویڈ کیمرون کا یہ بیان سامنے آیا ہے-
تین برطانوی لڑکوں کو ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے- برطانوی میڈیا کے مطابق گذشتہ برس تین سو ستائیس برطانوی شہری داعش میں شامل ہوئے تھے جن میں سے نصف نے شام میں داعش کےساتھ دہشتگردانہ کاروائیوں میں حصہ لیا ہے۔
برطانیہ ان ملکوں میں پیش پیش رہا ہے جنہوں شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کا تحتہ الٹے جانے کی سازش تیار کی اور اس کے کام کے لئے داعش جیسے سفاک اور وحشی گروہ کو تشکیل دیا-
یورپ میں ببسنے والے مسلمان حلقوں کا کہنا ہے کہ مغربی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں نے سعودی عرب کی مدد سے مشرق وسطی میں جو گھناؤنا کھیل کھیلا ہے، اس نے یورپ اور امریکا میں آباد مسلمانوں کی نئی نسل کے مستقبل کو تاریک بنادیا ہے-
.......
/169