17 مارچ 2015 - 10:27
غاصب اسرائیل، قبل از وقت انتخابات

غاصب اسرائیلی حکومت کی پارلیمنٹ کے قبل از وقت انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بہت سے خبری ذرائع ان انتخابات کو صیہونی حکومت کے موجودہ وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے لیےایک آزمائش قرار دے رہے ہیں۔ صہیونی حکومت کی پارلیمنٹ میں ایک سو بیس نشستیں ہیں۔ اس دوران بی بی سی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم کو بائیں بازو اور اعتدال پسندوں کے اتحاد کی جانب سےجس نے فلسطینیوں اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے، سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو نے انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے میں کہا تھا کہ کامیابی کی صورت میں وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں خاص طور پر بیت المقدس میں صیہونی کالونیوں میں توسیع کا حکم جاری کریں گے۔ اس سے قبل بھی جب سروے رپورٹوں میں نتنیاہو کی پوزیشن کو کمزور دکھایا تھا انہوں نےسیکورٹی کے مسائل اور ایران کے ایٹمی معاملے کو اٹھا کر ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن نتنیاہو کی ان کوششوں کے باوجود سروے رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں رہنے والے صیہونیوں کو ایران کے ایٹمی مسئلے سے زیادہ اقتصادی مسائل پر تشویش ہے۔ اس بنا پر جن جماعتوں نے معاشی اور اقتصادی مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے ان کی پوزیشن زیادہ بہتر ہے۔ سروے رپورٹوں سے اس بات کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ اسحاق ہرتزوگ اور زیپی لیونی نے جو صیہونی اتحاد تشکیل دیا ہے اس کی پوزیشن نسبتا بہتر ہے۔ حتی بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ پارلیمانی انتخابات نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اسحاق ہرتزوگ کی لیبر پارٹی کے درمیان اصلی معرکہ ہوں گے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسرائیل کے اندر انتخابات کی فضا میں اقتصادی مسائل حاوی ہیں۔ اسرائیل کے ان انتخابات میں نیوٹرل ووٹ کافی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲