16 مارچ 2015 - 13:29
انتہا پسندی سے مقابلہ، باہمی تعاون ضروری

مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ نے انتہا پسندی سے مقابلے کے لئے عالم اسلام میں اعتدال پسندی کی تقویت پر تاکید کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ حجۃ الاسلام احمد مبلغی نے، بنگلادیش کے مذھبی امور کے وزیر مطیع الرحمن کے ساتھ ملاقات میں، انتہا پسندی اور تکفیری خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، اسلامی تشخص کے لئے اعتدال پسندی اور میانہ روی کو تقویت پہنچانے کی غرض سے، عالم اسلام کے دانشوروں اور علمی اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت تاکید کی ہے۔ انہوں نے انتہا پسند اور تکفیری گروہوں کو عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تکفیری اور انتہا پسند گروہوں نے، اسلام کے ماضی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے جس کے باعث امت مسلمہ کے مطلوبہ مستقبل کی سمت قدم بڑھانے میں دشواریاں لاحق ہوں گی۔ حجت الاسلام احمد مبلغی نے اس ملاقات میں جو مذاہب اسلامی یونیورسٹی میں انجام پائی کہا کہ دین اسلام میں گہرائی سے انسانی کمالات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ انتہا پسند عناصر، اسلام کو ان پہلوؤں سے عاری اور اسلام کو ایک بے رحم دین ظاہر کرنے میں کوشاں ہیں۔ مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ نے عالم اسلام میں میانہ روی اور اعتدال پسندی اپنائے جانے کو انتہا پسند اور تکفیری گروہوں کے خطرات سے مقابلے کا واحد راستہ قرار دیا اور کہا کہ مذاہب اسلامی یونیورسٹی نے عالم اسلام کی اعتدال پسند روش کو اختیار کیا ہوا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ میانہ روی کے ذریعے عالم اسلام کی اہم یونیورسٹیوں میں باہمی تعاون کے لئے بنیادی قدم اٹھائے۔ اس ملاقات میں بنگلادیش کے مذہبی امور کے وزیر مطیع رحمن نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور مذاہب اسلامی یونیورسٹی میں اپنی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے، ایران میں اہل سنت اور تشیع کے درمیان گہرے اور اچھے رابطے کو سراہا اور کہا کہ مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان جو ماحول ایران میں سازگار ہے خود ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ماحول ہے اور مختلف اسلامی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تعلقات ، پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر استوار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران میں مذاہب کے درمیان اختلافات دیکھنے میں نہیں آتا، کہا کہ یہ بات باعث مسرت ہے کہ ہم، مذاہب کے پیروکاروں میں کوئی اختلاف نہیں دیکھ رہے ہیں اور ہمیں عالم اسلام کے مذاہب کے درمیان وحدت و اتحاد کے لئے کوششیں بروئے کار لانی چاہئیے۔ بنگلا دیش کے مذہبی امور کے وزیر نے مذاہب اسلامی یونیورسٹی کی، اتحاد سے متعلق کوششوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایران اور بنگلادیش کے مذھبی مراکز کے درمیان باہمی تعاون اور بات چیت کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایسے مواقع فراہم ہوں کہ بنگلادیش کے اساتذہ اور طلباء بھی مذاہب اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آئیں اور اساتذہ اور طلباء کے درمیان تبادلہ خیال کا راستہ ہموار ہو۔ اس ملاقات کے آخر میں، جس میں مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے معاونین اور مذہبی امور کی وزارت کے سکریٹری بھی موجود تھے، یہ طے پایا کہ عالم اسلام کی اہم یونیورسٹیوں کے ساتھ مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے تعاون کی بنیاد پر، بنگلادیش کی اسلامی یونورسٹی کی گنجائشوں اور صلاحیتوں سے استفادہ ایجنڈے میں قرار پائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲