اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جوزجان کی پولیس کے کمانڈر فقیر محمد جوزجانی نے کہا ہے کہ شبرغان کی مرکزی جیل میں ہونے والی اس جھڑپ میں اب تک ایک قیدی اور جیل کی سیکورٹی پر تعینات دو اہلکار ہلاک اور ایک اہلکار اور دس قیدی زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن قیدیوں نے شورش کی ہے وہ سرپل علاقے کے ہیں جنھیں جوزجان میں رکھا گیا ہے۔ فقیر محمد جوزجانی کے مطابق شورش کرنے والے اکثر قیدی خطرناک ہیں جنھیں عمر قید یا پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان میں بیشتر قیدی ایسے ہیں جو دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ شورش مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے قیدیوں اور جیل کےعملے کے درمیان جھڑپ کے بعد شروع ہوئی۔ اس شورش پر قابو پانے اور بات چیت کے لیے جوزجان کی صوبائی کونسل کے نمائندے جیل کے اندر گئے۔ واضح رہے کہ اس وقت سرپل علاقے کے سات سو سے زیادہ قیدیوں کو جوزجان کی جیل میں رکھا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲