7 مارچ 2015 - 14:32
سعود الفیصل کے مداخلت پسندانہ بیان پر رد عمل

عراق کی پارلیمنٹ میں الدعوہ پارٹی کے سربراہ نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ کے مداخلت پسندانہ بیان کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق الدعوہ کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ خلف عبدالصمد خلف نے ایک بیان میں داعش گروہ کے خلاف مہم میں عراق کےلئے ایران کی امداد کے بارے میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان سے، اس بغض و کینے کا پتہ چلتا ہے، جو عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف عوامی رضاکاروں کے تعاون سے عراقی فوج کو حاصل ہونے والی اہم کامیابیوں کےبعد، سعودی عرب میں پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے تاکید کی کہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ کا بیان، قابل مذمت ہے اور انھیں اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ، امریکہ سے عراق میں داعش کے خلاف جنگ کرنے کی درخواست کریں۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل نے حالیہ دنوں میں ایک مداخلت پسندانہ بیان میں کہا ہے کہ عراق کو اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہیئے کہ داعش کے خلاف، ایران جنگ کرے بلکہ اسے اس سلسلے میں امریکی فوجیوں سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ الدعوہ کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ خلف عبدالصمد خلف نے کہا کہ عراق کی صورت حال، مسلسل بہتر ہورہی ہے اور عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں نے حالات تبدیل کرتے ہوئے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور داعش دہشتگرد گروہ کے زیرقبضہ، بیشتر علاقوں کو آزاد کرالیا ہے۔ واضح داعش کے خلاف عراقی فوج اور عوامی فورسز کی کامیابی پر سعودی عرب کے ساتھ ہی امریکا نے بھی اشارتا اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کے داعش کے خلاف عراقی فور‎‎س کی کامیابی سے فرقہ واریت کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے داعش کے خلاف عراقی فورس کی فتوحات پر تشویش اور ناراضگی کا اظہار ایک ایسے وقت سامنے آيا ہے کہ داعشی دہشت گرد گروہ کے خلاف آپریشن میں عراق کے تمام مسالک اور قبائل کے لوگ شریک ہیں۔

.......

/169