اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی وزیر اعظم نے امریکی کانگریس ميں خطاب کرتے ہوئے اراکین کانگریس اور امریکی حکومت کی جانب سے اسرائيل کی ہمہ گير حمایت کو سراہا- نیتن یاہو نے کہا کہ آپ خواہ ڈیموکریٹ ہوں یا ری پبلیکن اسرائيل کے حامی ہیں -
انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی حکومت کی مسلسل حمایت بالخصوص آئرین ڈوم کے لئے مالی امداد پر اوباما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تاریخ کے سبھی صدور ہری ٹرومین سے لے کر باراک اوباما تک نے اسرائیل کی ہمیشہ ہمہ جانبہ مدد کی ہے -
نیتن یاھو نے اپنی تقریر میں ایران کے خلاف تکراری الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ایران نہ صرف اسرائيل کے لئے خطرہ ہے بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی خطرہ ہے- انہوں نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایک بہت برا معاہدہ ہے جو نہیں ہونا چاہئے -
نتن یاہو نے کہا کہ علاقے میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے اور اس سے ایٹمی ٹکنالوجی واپس نہیں لی جاسکتی - صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے گوداموں کا ذکرکئے بغیر کہا کہ اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو علاقے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی -
علاقے اور خاص طور پر فلسطین میں ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنےوالی صیہیونی حکومت کے وزیراعظم نے ایران پر ایک بار پھر دہشت گردی کی حمایت کا بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں ہونا چاہئے جب ایران دہشت گردی کی حمایت بند کردے اور اسرائیل کی نابودی کے موقف سے دستبردار ہوجائے -
نتن یاہو نے یہ تقریر ایک ایسے وقت کی ہے جب اراکین کانگریس کی بڑی تعداد نے ان کی تقریر کا بائیکاٹ کررکھا تھا-
گذشتہ دنوں میں ذرایع ابلاغ نے رپورٹیں نشر کی تھیں جن میں کہا گيا تھا کہ نیتن یاھو کے شورو غل کا حقیت سے کوئي واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی تشہیراتی ہوس کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169