اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نیشنل انٹلی جنس ادارے کے ڈائریکٹرجیمزکلاپر نےامریکہ کی خارجہ تعلقات کونسل سے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ شام میں دہشت گرد گروہوں میں شامل ہونے والے ایک سو اسی امریکیوں میں سے چالیس واپس آچکے ہیں-
مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا شام جانا اور پھرواپس امریکا لوٹ آنا امریکا کے خفیہ اداروں کی اطلاع اور ہماہنگی سے انجام پایا ہے-
جیمزکلاپر نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ بعض ملکوں کی جانب سے القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی امداد میں کمی آ گئی ہے -
جیمزکلاپر نے دعوی کیا کہ اس کی وجہ، علاقے کے ممالک کی نگرانی میں اضافہ ہے- اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے اور نوے سے زائد ملکوں سے ان کا تعلق ہے-
بتایا جاتا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کے ساتھ ہی سیکڑوں کی تعداد میں مسلمان سکس ورکرز کو بھی شام اور عراق بھیجا گیا ہے تاکہ وہ نام نہاد جہادیوں کی جنسی تسکین کا سامان فراہم کرسیکيں-
امریکہ اوراس کے یورپی اتحادی ممالک کہ جوشام میں بحران اورجھڑپوں کے آغازمیں حکومت کے مخالفین کی مدد اورحمایت کررہے تھے، اب ان افراد کے دہشت گردانہ اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جو شام سے پلٹ کر اپنے اپنے ملکوں میں واپس جا رہے ہیں-
یہ ممالک آج حفاظتی اقدامات کو سخت کرنے کے لیے بھاری اخراجات کرنے پر مجبور ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکا اور ترکی نے شام کے نام نہاد اعتدال پسند دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر انہيں شام بھیجے جانے کے منصوبے پر ایک باضابطہ سمجھوتے کے تحت کام شروع کردیا ہے-
.......
/169