22 اگست 2026 - 17:26
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام؛ واشنگٹن کا 28 ارب ڈالر کی کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کا اعلان

لیڈ: امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد واشنگٹن نے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر رات گئے سے 50 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا، جبکہ اوٹاوا نے جوابی اقدام کی دھمکی دے دی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی روز سے جاری تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے مذاکرات میں تعطل کے بعد اپنی مذاکراتی ٹیم کو فوری طور پر وطن واپس بلانے کا حکم دیا اور کہا کہ بات چیت کا موجودہ دور معطل کردیا گیا ہے۔

کارنی نے واشنگٹن کے نئے محصولات کے جواب میں واضح کیا کہ کینیڈا بھی ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر امریکا کے خلاف جوابی محصولات عائد کرے گا۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے اور واشنگٹن نے آخری مرحلے میں کینیڈا کو متعدد مراعات بھی پیش کی تھیں، تاہم کینیڈین وفد نے انہیں قبول نہیں کیا۔

امریکا اور کینیڈا گزشتہ سال سے وسیع تجارتی تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اچھا معاہدہ قریب ہے، تاہم کارنی کی جانب سے مذاکرات روکنے کے فیصلے کے بعد یہ امکان ختم ہوگیا۔

نئے امریکی محصولات نے شمالی امریکا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ مزید سنگین ہونے کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha