اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کے تحققیاتی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ولایتی نے کہا ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عالمی رائے عامہ اس بات سے آگاہ ہوچکی ہے کہ ایران کا ایٹمی پرگرام پر امن ہے۔ تشخیص مصلحت نظام کونسل کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ولایتی نے اتوار کے روز تہران میں اٹلی کے وزیر خارجہ پائولو جنتیلونی سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور اٹلی کے مذاکرات کا ایک اہم موضوع ایٹمی مذاکرات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف سے آگاہ ہے اور جانتا ہےکہ ایران اپنے قانونی حقوق کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہتا ہے، جو اس کے ایٹمی حقوں کے تسلیم کئے جانے سے عبارت ہے ۔ سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ولایتی نے علاقے کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اٹلی علاقے کے مسائل بالخصوص بڑھتی ہوئي انتھا پسندی کے تعلق سے ایک جیسے مواقف کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے نظریات اور راہ ہائے حل سے ایک دوسرے کو مطلع کرسکتے ہیں۔ اطالوی وزیر خارجہ جنتیلونی نے ڈاکٹر ولایتی سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں حتمی معاہدے کے حصول سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں توسیع آجائے گي۔ ادھر اٹلی کے وزیر خارجہ نے آج تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر علی شمخانی نے شام کی قانونی حکومت سے مقابلے کے بہانے دہشتگردوں کو مسلح کرنے کی بابت ایران کے بار بار کے انتباہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خطرات میں اضافے کی بنیادی وجہ بعض مغربی ملکوں اور ان کے علاقائي اتحادیوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سکریٹری نے کہا کہ لیبیا کاتحربہ اور یہاں پر داعش کے وجود نے ثابت کردیا کہ بیرونی ملکوں کی فوجی مداخلت اور مسلح گروہوں کو اپنے اھداف کے لئے استعمال کرنے کا نتیجہ، انسانی جانوں کے ضیاع اور مادی نقصانات، بنیادی تنصیبات کی تباہی اور تباہ کن بحرانوں میں شدت آنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ علی شمخانی نے دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول اچھے ایٹمی معاہدے کی خوبیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف عائد تمام غیر قانونی پانبدیاں ختم ہونی چاہیں اور ہمارے مد مقابل کو ایران کی نیک نتیتی اور تعاون کے جواب میں اعتمادی سازی کے اقدامات کرنے چاہیں۔ اٹلی کے وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ دہشتگردی علاقے اور عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جنتیلونی نے کہا کہ دہشتـگرد گروہوں سے موثر مقابلہ اور علاقے میں امن و استحکام کی برقراری صرف اس صورت میں ممکن ہوسکتی ہے کہ عالمی سطح پر سارے ممالک ایک ہوجائيں۔ انہوں نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائي مسائل کو حل کرنے بالخصوص داعش کی انتھا پسندی اور دیگر مسائل سے نمٹنے میں ایران کا کردار نہایت موثر اور فیصلہ کن ہے۔ اٹلی کے وزیرخارجہ نے اتوار کے روز ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی اکبر لاریجانی سے بھی ملاقات کی - اسپیکر علی لاریبجانی نے اس ملاقات میں ایٹمی معاملے میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان مذارکراتی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مقابل فریقوں کی نیک نیتی اور سنجیدگی کی صورت میں ایٹمی مذاکرات سے مثبت نتائیج حاصل کئے جاسکتے ہیں -
.......
/169