اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی اور امریکہ کے وزیر توانائی ارنسٹ مونیز کے علاوہ ایران اور امریکہ کے نائب وزرائے خارجہ سید عباس عراقچی، مجید تخت روانچی اور وینڈی شرمین نے شرکت کی- اس کے علاوہ ایرانی صدر کے خصوصی معاون حسین فریدون اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ ہلگا اشمیت بھی ان مذاکرات میں شریک تھیں- اتوار اور پیر کی درمیانی رات بھی دونوں فریقوں نے ڈھائی گھنٹے تک ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں مذاکرات کیے تھے- جن کی تفصیلات میڈیا کو فراہم نہيں کی گئيں ان مذاکرات کے موقع پر ہی ایران امریکہ اور یورپ کے ماہرین کا جنیوا میں اجلاس منعقد ہوا- اتوار کی رات کے اجلاس کو سنجیدہ اور مثبت قرار دیا گيا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہا گيا ہے کہ اختلافات بدستور باقی ہیں- بعض بیانات کے مطابق وزراء کی سطح پر ہونے والے مذاکرت کے موضوعات میں، یورینیم کی افزودگی کی شرح، سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد اور پابندیوں کے مکمل خاتمے کے بارے میں وہی پرانے اختلافات باقی ہیں تاہم دونوں فریق اجلاس منعقد کر کے ایک دوسرے کے نظریات کو قریب لانے کے لیے کسی راہ حل کی تلاش میں ہیں- ایران کے اعلی ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران اور ایٹمی مذاکراتی ٹیم کبھی بھی بدمعاشی، دباؤ اور زورزبردستی کے سامنے نہیں جھکے گی- جنیوا مذاکرات سے قبل لندن میں دیئے گئے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں پورے مذاکراتی عمل میں اس قسم کے رویّے کا سامنا رہا ہے اور باوجود اس کے کہ اس قسم کا رویہ مکمل طور پر اپنی افادیت کھو چکا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بار باراس کا استعمال کیا جارہا ہے- سید عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مذاکرات دونوں فریقوں کے مفادات کی سمت میں اور دونوں فریقوں کے فائد میں آگے بڑھنے چاہییں کہا کہ اگر اس طرح نہ ہوا اور ایک فریق نے غیرمذاکراتی طریقوں سے مذاکراتی عمل پر اپنا ارادہ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی یقینا مذاکرات کی میز ترک کرنےسے دریغ نہیں کریں گے لیکن ابھی وہ وقت نہیں آيا ہے- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بھی مذاکرات ہمارے مفادات کے خلاف ہوئے تو ہم مذاکرات سے دستبردار ہوجائيں گے- سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ مذاکرات کے چوتھے روز کئی دور انجام پائيں گے اور روسی نمائندوں کے ساتھ ہمارے دو طرفہ مذاکرات ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲