17 فروری 2015 - 17:09
آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی جاری

سعودی عرب میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور ان کے خلاف سنگين سزاوں کے فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور ان کے خلاف سنگين سزاوں کے فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے ۔آل سعود کی جیل میں قید وبند کی صعوبتیں اٹھانے والے ایک سیاسی رہنما ولید ابوالخیر کے اھل خانہ نے کہا ہے کہ آل سعود کے اسپیشل کرمنل اپیل کورٹ نے ان کے خلاف پندرہ برس قید کی سزا کی توثیق کردی ہے۔ اس عدالت نے ولید ابو الخیر کے بیرون ملک سفر پر بھی پابندی لگادی ہے۔انہيں دو لاکھ سعودی ریال جرمانہ بھی کیا گيا ہے۔ کچھ دنوں قبل آل سعود کے مخالف محقق اور سیاسی رہنما نے اپنے ٹویٹر پر سعودی عرب کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی نہایت نامناسب صورتحال کےبارے میں لکھا تھا۔انہوں نے لکھا تھا کہ آل سعود کی کال کوٹھریوں میں سیاسی قیدیوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی جارہی ہے کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ آل سعود کی جانب سے شہریوں کے حقوق کی پامالی اور ملک کا انتظام چلانے کے لئے جمہوری اصولوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ ملک پسماندہ سمجھاجاتا ہے جس میں قرون وسطی کے قوانین لاگو ہیں۔ ادھر بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہےکہ سعودی عرب میں عوام کی معاشی صورتحال بھی ابتر ہوتی جارہی ہے جبکہ سعودی عرب عظیم ترین تیل کے ذخائر کا حامل ہے۔ ادھر سعودی عرب کے سرکاری ذرايع نے اطلاع دی ہےکہ ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نباء نامی ٹی وی چینل نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق انسٹھ ہزار دو سو ستتر افراد نے وزارت محنت سے کام کی درخواست کی ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ  سعودی عرب کے فارغ التحصیل جوانوں میں  بے روز گاری زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہےکہ سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح پینتیس فیصد ہے۔ سعودی عرب کے عوام آل سعود کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مالی لحاظ سے متعدد مسائل کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود آل سعود کے  ہاتھوں بیت المال کی لوٹ مار کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔اس سلسلے میں سعودی عرب کے ایک سیاسی رہنما نے تازہ  انکشافات کئے ہیں۔ مجتہد نے آل سعود کے نئے بادشاہ کے بارے میں لکھا ہے کہ سلمان کے حامی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ بیت المال لوٹ رہے ہیں اور جب وہ ریاض کے گورنر تھے تو انہوں نے ریاض کا ترقیاتی بجٹ ہڑپ کرلیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جس بجٹ میں انہوں نے غبن کیا تھا وہ کئي وزارت خانوں کے بجٹوں سے بڑھ کر تھا۔ ان حالات میں سعودی عرب کے طلباء اور نوجوانوں نے ملک میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں اور طلباء نے انٹرنیٹ پر دستخطی مہم چلا کر سعوی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی بہتری کے لئے قدم اٹھائيں۔ اس دستخط مہم کو جس کو سعودی جوان نسل کے مطالبات سے موسوم کیا گيا ہے فیصلہ کرنے والوں اور وہ لوگ جو تبدیلیاں لاسکتے ہیں ان کے نام بھیجا گيا ہے۔ سعودی عرب کی جواں نسل کی اس دستخط مہم میں ہزاروں افراد نے اپنے نام اور پتے بھی لکھے ہیں۔ اس دستخط مہم میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائي، سیاسی مسائل کی وجہ سے عام شہریوں کی گرفتاری کا خاتمہ ، خواتین پر لاگو پابندیوں کے خاتمے، میڈیا میں آزادی بیان کی ضمانت، آل سعود کے شہزادوں کو بیت المال کی خرد برد سے روکنا، ہاوسنگ اور بے روزگاری کے مسائل کا فوری حل اہم ترین نکات ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲