اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی ذرائع نے خبر دی ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر اجتماعی قبریں ملی ہیں - شمالی عراق کے دھوک صوبے میں اجتماعی قبروں کا پتہ لگانےوالی کمیٹی نے موصل کے شمال مغرب میں ایک اجتماعی قبر کا پتہ لگایا ہے جس میں داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے درجنوں افراد کی لاشیں دفن کی گئی ہیں- اجتماعی قبروں پر نگراں کمیٹی کے ایک رکن برفان حمدی نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں سنجارمیں داعش کے قبضےسےآزاد ہونے والے علاقوں میں تین ایسی اجتماعی قبریں ملی ہیں جن میں دفن شدہ افراد کی یا تو گردنیں کٹی ہوئی تھیں یا انہیں گولیوں سے بھون دیا گيا تھا - اس سے قبل شمالی عراق کے صوبے نینوا میں ایک مقامی ذریعے نےموصل کےشمال مغرب میں ایک اجتماعی قبر ملنے کی خبر دی تھی جس میں چار سو افراد ایک ساتھ دفن کئے گئے تھے- اس مقامی ذریعے نے بتایا تھا کہ مارے جانے والوں کا تعلق بادوش جیل کےملازمین اور قیدیوں سے ہے جنہيں گولی مار ہلاک کیاگيا تھا-
داعش نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضے کے وقت سےان علاقوں کے عوام کے خلاف اپنی بربریت کی انتہا کردی ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی بربریت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے - اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ داعش کے عناصر بچوں کی گردنیں کاٹنے انہیں زندہ جلانے اور پھانسی پر لٹکانے جیسے وحشیانہ اقدامات انجام دیتے ہيں- رپورٹ میں کہا گيا ہے داعش کے افراد خودکش حملے انجام دلانے، دستی بم بنانے اور فضائی حملوں کے دوران اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لئے ان بچوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرتے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲