اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورۂ افریقہ کے چوتھے اور آخری مرحلے میں تنزانیا کے دارالحکومت دارالسلام پہنچے اور تنزانیا کے صدر مویشو کیکوتے سے ملاقات کی – اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ، دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا - ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل تین افریقی ملکوں کینیا، یوگینڈا اور برونڈی کا بھی دورہ کیا اور ان ملکوں کے حکام سے باہمی دلچسپی کےامور خاص طور پردو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی راہوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا-
وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے تنزانیا کے دورے سے قبل بدھ کی صبح برونڈی کے صدر پیر انکورو نزیزا سے بوجومبورا میں ملاقات کی تھی۔ برونڈی کے صدر نے وزیرخارجہ جواد ظریف سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کو سخت حالات میں برونڈی کی حکومت اور قوم کا حقیقی دوست قرار دیا- انہوں نے دس سالہ خانہ جنگی سمیت برونڈی کی داخلی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برونڈی اقتصادی ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور اس راستے میں اسے اسلامی جمہوریہ ایران کے تجربات اور توانائیوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے- ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران برونڈی کے ساتھ دوستانہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے- ایرانی وزیر خارجہ نے برونڈی سے قبل کینیا اور یوگینڈا کے دورے میں ان ملکوں کے حکام سے بھی باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی راہوں کا جائزہ لیا تھا- جواد ظریف نے کینیا اور یوگینڈا کے حکام سے ملاقات میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے پر تاکید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ اگر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں ایران کے ایٹمی مذاکرات کے پرامن ہونے اور پابندیوں کے خاتمے کو جامع حتمی معاہدے کے متن میں شامل کرلیا جائے تو کم ترین وقت میں سمجھوتے تک پہنچا جا سکتا ہے-
.......
/169