اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سال کے پہلے مہینے کا پہلا واقعہ یکم جنوری کو پیش آیا جس میں کراچی کے شیعہ ڈاکٹر احسن علی کو نشانہ بناکر شہید کردیا۔ اُسی دن اروکزئی ایجنسی میں شیعہ علاقے کے قریب ایک فٹ بال گراونڈ میں دھماکہ کیا گیا جس میں تین مومنین شہید ہوگئے۔ یعنی سال کا پہلا دن چار مومنین کی شہادت سے شروع ہوا
چھ جنوری کے دن ڈی آئی خان میں سید مجتبی شہید ہوئے اُسی دن دوبارہ کراچی میں دو شیعہ نوجوانوں کو شہید کردیا گیا جن کی شناخت اسد اور سلمان کے نام سے ہوئی۔
اگلے ہی دن سات جنوری کو پولیس اہلکار اصغر حسین کراچی میں نشانہ بنے بات یہی ختم نہیں ہوئی آٹھ جنوی کو ایک اور پولیس اہلکار سلمان رضوی کو شہید کردیا گیا۔
نو جنوری کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے راولپنڈی میں ایک امام بارگاہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نو مومنین شہید ہوگئے
دس جنوری کے دن کی ابتداء کراچی کے شیعہ ٖڈاکٹڑ یاور سے ہوئی جنہیں سپاہ صحابہ اورنگزیب فاروقی گروپ نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر شہید کردیا۔ اُسی دن پشاور میں ڈاکٹڑ عاصم نشانہ بنے۔ کراچی میں مزید دونوجوانوں جعفر عباس اور نعیم جعفری کو نشانہ بنایا گیا۔ دن کا اختتام کوہاٹ میں وقار حسین کے خون سے ہوا۔
تیرہ جنوری کو شیعہ اکثریتی علاقے گلگت میں رمضان علی کو شہید کردیا گیا۔ چودہ جنوری کو ڈی آئی خان میں ایک شیعہ کیس(شہید مصطفی کیس) کی تفتیش کرنے والے اہلسنت پولیس افسر اے ایس آئی قیصر کو مزید 3 سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ شہید کردیا گیا۔
سترہ جنوری کو راولپنڈی میں دوسرا شیعہ نسل کشی کا واقعہ پیش آیا۔ جس میں فیاض حسین کو اُں کے دو بھانجوں سمیت شہید کردیا گیا۔ اُس دن اقبال مہدی بھی کراچی میں سپاہ صحابہ کا نشانہ بنے
کافی دن بعد چوبیس جنوری کو دوبارہ دہشتگرد سرگرم ہوگئے اور کراچی میں شیعہ مومن محمد احمد اور وزیر حسین کو شہید کردیا پچیس جنوری کو بدر حسن سپاہ صحابہ کا نشانہ بنے۔
سال کا پہلا مہینہ جس کی ابتداء ایک شیعہ ڈاکٹر کے خون سے ہوئی تھی اب مہینے کی انتہا ہونے کو تھی۔ تیس جنوری وکا سورج طلوع ہوا۔ شکار پور میں جمعے کی نماز میں ستر افراد کو بم دھماکے میں شہید کردیا گیا۔ جس میں کئی مومنین زخمی ہوئے۔ دہشتگردوں کی خون کی پیاس ابھی بھی نہیں بھجی۔ اکتیس جنوری کو کراچی میں شیعہ بزرگ سرفراز حسین کو نشانہ بنایا گیا.
.......
/169