اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو پینٹاگن کے سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل میں گذشتہ ہفتے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں کیمیائی اسلحہ ساز ابو مالک ہلاک ہو گیا، کہ جو کسی زمانے میں عراق کے سابق آمر صدام کے لیے کام کرتا تھا۔
بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا دہشت گرد داعش کے شدت پسندوں کو کیمیائی اسلحہ سازی کی تربیت فراہم کر رہا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ابو مالک صدام کے دورے حکومت میں کیمیائی ہتھیاروں کے اینجینئر کی حیثیت سے سرگرم تھا، اس کے بعد اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے بعد داعش میں شامل ہو گیا۔
امریکی حکام کی جانب سے ابو مالک کا اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ وہ پندرہ سال تک صدام حکومت کے ساتھ وابستہ رہا اور المثیٰ کیمیکل اکیڈیمی میں کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف رہا۔
امریکی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ ابو مالک کی ہلاکت سے داعش کو کیمیائی اور مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں داعش کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل میں بھی کمی آئے گی۔
.......
/169