اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یورپی اور امریکی جوانوں کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کو ایران کی ڈپلومیسی کا ایک حصہ قرار دیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے، یورپ اور امریکہ کے جوانوں کے نام رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کے بارے میں کہا کہ یہ پیغام، اپنی نوعیت میں مختلف، موثر، ایران کی ڈپلومیسی کا ایک حصہ، اور دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ایران کے نقطۂ نگاہ اور انسانی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں ہے۔ افخم نے اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی آمد کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور بانی انقلاب امام خمینی (رہ)، شہدائے انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال ایران اور دیگر ملکوں کے عوام کو اسلامی انقلاب کے اثرات کےبارے میں مزید آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ افخم نے شام کے جنوبی علاقے قنیطرہ میں جنرل اللہ دادی اور حزب اللہ کے دیگر جیالوں کو شہید کرنے کے صہیونی حکومت کے جارحانہ اقدام کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے صہیونی حکومت کی اس ریاستی دہشت گردی کےبعد جنرل اللہ دادی اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والوں کے بارے میں اپنے نظریات کو، سفارتی ذریعوں سے امریکہ کو منتقل کردیا ہے۔ افخم نے گذشتہ ایک ماہ میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ تمام مذاکرات اور سمجھوتوں میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے مفادات اور سلامتی، ہماری ریڈ لائن ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے امریکی کانگریس کے منصوبے کےبارے میں کہا کہ بائیکاٹ کا ہتھکنڈہ بے نتیجہ اور بے اثر ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح رواں سال میں روسی صدر کے دورۂ تہران اور ایران کو ایس تھری ہینڈرڈ میزائل فروخت کرنے کے بارے میں، روس ميں ایرانی سفیر کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان اچھے دوطرفہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اور ماسکو، علاقے اور دنیا میں اہم کردار کے حامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور ایران بعض مسائل میں مشترکہ نظریات رکھتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے لئے بہتر گنجائش موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲