اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صیہونی حکومت کے فوجیوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں اور غزہ پٹی پر حملے کر کے بہت سے فلسطینیوں کو زخمی اور گرفتار کر لیا ہے-موصولہ رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے منگل کوغرب اردن کے شہر نابلس کے مشرق میں واقع فلسطینی کیمپ پر حملہ کر کے کئی فلسطینیوں کو زخمی کر دیا- فلسطین کے سیکورٹی ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ جنین کے جنوب مغرب میں نامعلوم نقاب پوش افراد کے حملے تین فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔ صیہونی فوجیوں نے اسی طرح بیت لحم اور قلقلیا شہروں پر حملہ کر کے تین فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔دریں اثنا مقبوضہ علاقوں میں لاکر بسائے گئے سیکڑوں صیہونیوں نے صیہونی فوجیوں کی مدد سے نابلس کے مشرق میں حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر دھاوا بول دیا۔ اس موقع پر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ایک فلسطینی نوجوان زخمی ہو گیا۔ صیہونی فوجیوں نےمنگل کی صبح جنین کے دیہاتوں پر حملہ کر کے گھر گھر تلاشی لی۔دوسری جانب صیہونی فوجیوں نے غزہ پٹی کے شہر خان یونس کے مشرق میں حملہ کرکے فلسطینیوں کے گھروں اور کھیتوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فلسطینی اپنے کھیتوں سے باہر نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس حملے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں ابھی کوئي رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔پیر اور منگل کی درمویانی رات بھی صیہونی فوجیوں نے غزہ شہر کے ساحل کے قریب فلسطینی ماہیگیروں کی ایک کشتی پر فائرنگ کی تھی جس سے یہ کشتی غرق ہو گئی۔ادھر فلسطین کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کو کالونیوں کی تعمیر سے روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کی جانب سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے اقدام کو ایک جنگی جرم کے طور پر دیکھنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی امن کے لیے ایک خطرہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲