اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کے روز ایروان میں اپنے آرمینیائی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایٹمی مذاکرات اب انتہائی جزئیات کے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں اور ایران میں یورینئم کی افزودگی کے حق کو بھی تسلیم کرلیا گيا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پرزور دیتے ہوئے کہ ایٹمی راہ حل تک رسائی تمام ملکوں کے فائدے میں ہے کہا کہ فریق مقابل کو چاہئے کہ دباؤڈالنے کے ہتھکنڈے سے دستبردار ہوجائے کیوں کہ دباؤ اورپابندیوں کے ذریعے مسائل کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے اسی طرح علاقے اور دنیا میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ، ساری دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور آرمینیا کے قریبی تعلقات سےاس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسلام اور عیسائيت آسانی سے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگي گذار سکتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تہران میں ایران او آرمینیا کے درمیان بارہویں مشترکہ کمیشن کے انعقاد کے مثبت نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن و آشتی کا خواہاں رہا ہے اور اسے امید ہے کہ قرہ باغ کا مسئلہ دوستی اور مفاہمت آمیز طریقے سے حل ہوجائے گا۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے یوریشیا تنظیم میں آرمینیا کی رکنیت کے بارے ميں کہا کہ ایران اور آرمینیا کے درمیان تعاون کے فروغ کے لئے یہ مناسب موقع تھا اور تہران، ایروان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کے لئے آمادہ ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اسی طرح ایس تھری ہینڈرڈ میزائیل سسٹم کے سلسلے میں انجام پانے والے سمجھوتے اور ایران اور روس کے درمیان اس مسئلے کے حل کے بارے میں کہا کہ دونوں مکوں کے وزرائے دفاع نے اس سلسلے ميں مذاکرات انجام دیئے ہیں ۔ آرمینیا کے وزیر خارجہ ايڈورڈ نعلبندیان نے بھی اس پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ آرمینیا کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں کہا کہ ایروان قرہ باغ کے تنازعے کے پرامن حل پر مبنی ایران کے موقف کا احترام کرتا ہے ۔ آرمینیاکے وزیرخارجہ نے طاقت اور زور زبردستی کی پالیسی سے پرہیز کرنے پر زور دیتے ہوئے ملک کی ارضی سالمیت اور مینسک گروہ کی اپیلوں کے جواب میں کہا کہ آرمینیا اس بات کا پابند ہے کہ قرہ باغ کامسئلہ طے شدہ اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔ آرمینیا کے وزیرخارجہ نعلبندیان نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات کے مثبت نتائج کے حصول کی امیدظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل سے عالمی برادری کو فائدہ پہنچے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲