اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جمعرات کو ہونے والے حملے میں جو ڈونیٹسک کے ایک بس اسٹاپ پر ہوا تیرہ عام شہری ہلاک اور دس دیگر زخمی ہوگئے۔ ڈونیٹسک بلدیہ کے ایک عہدیدارنے کہا کہ ہلاک ہونے والے بارہ افراد عام راہ گیرہيں جو بس اسٹا پ پر کھڑے تھے جبکہ ادھر سے گذرنے والی ایک گاڑی کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوگیا۔ تیرہ جنوری کو بھی ایک اورواقعے میں مسلح افرادکی فائرنگ سے گیارہ عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی سمجھوتے پر دستخط نہ کرنے کے باعث گذشتہ برس فروری میں سابق صدر ویکٹر یانوکوویچ کی برطرفی اور کی یف میں مغرب نواز ایک نئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے، مشرقی یوکرین میں روسی نژاد اکثریتی علاقے، مخالفین اور فوج کے درمیان جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ گذشتہ ستمبر میں ہونے والے " مینسک " امن معاہدے کے تحت جنگ بندی کے اعلان کے بعد، ابھی بھی ان علاقوں میں امن قائم نہيں ہوسکا ہے۔ ادھر روس نے یوکرین میں امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات کو بحران میں شدت کا باعث قرار دیاہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے ویتالی چورکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ امریکہ یوکرین کے بحران ميں تخریبی رول ادا کررہا ہے اور اس نےمشرق وسطی کو بھی بری طرح عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔ ویتالی چورکین نے کہا کہ جب سے امریکا کے ایک اعلی سطحی وفد نے کی ایف کا دورہ کیا ہے اس وقت سے یوکرینی حکومت کا تیور انتہائي جارحانہ اور جنگ پسندانہ ہو گيا ہے ۔ روسی مندوب چورکین نے مزیدکہا کہ امریکی فوج کے کمانڈر کے دورۂ یورپ کے ساتھ ہی فوجی کاروائی میں بھی تیزی آئی ہے ۔ یوکرین سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےاجلاس میں امریکی نمائندے سامانتا پاور نے کہا کہ روس نے مینسک سمجھوتے سے بے توجہی برتی ہے تاہم اس کے رد عمل میں روسی مندوب چورکین نے کہا کہ ہم جہاں بھی نظر اٹھائیں خواہ وہ عراق ہو لیبیا ہو شام یا یوکرین ہو ہر جگہ بدامنی ، خونریزی اور بحران کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ چورکین نے مزید کہاکہ امریکہ یوکرین کے بحران کے حل میں سلامتی کونسل کی کوششوں میں روکاوٹ بنا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲