اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بدھ کی سہ پہر یمن کے صدر منصورہادی اور تحریک انصاراللہ کے نمائندوں کے درمیان ہنگامی اجلاس ہوا جس میں یمنی صدر نے عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کی چاروں شرطیں تسلیم کرلی ہيں۔ اسکائي نیوز نے بھی خبردی ہے کہ یمنی صدر نے انصاراللہ کے نمائندوں کے ساتھ یہ ہنگامی مذاکرات بدھ کو پورے دن ایوان صدر کے آس پاس شدید جھڑپوں اور دارالحکومت صنعا پر عوامی انقلابی تحریک کا مکمل کنٹرول ہوجانے کے بعد انجام دئے۔ خبروں میں بتایا گيا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں ایوان صدر سمیت تمام سرکاری اداروں اور پورے شہر پرعوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے نوجوانوں نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایوان صدر کی حفاظت کی ذمہ داری بھی انصاراللہ تحریک کے نوجوانوں نے ہی سنبھال لی ہے جبکہ صدارتی گارڈ کےاہلکار انصاراللہ کے ساتھ ہونے والی لڑائي کے بعد پسپا ہوگئے ہيں۔اس سے پہلے انصاراللہ تحریک نے تازہ لڑائیوں اور بدامنی کا ذمہ دار یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی کو قرار دیا تھا۔ تحریک انصاراللہ کا کہنا تھا کہ یمنی صدر نے قومی آشتی کے معاہدے پر عمل درآمد نہيں کیا اور وہ اس معاہدے کو سب تاژ کرنے کی کوشش کررہے ہيں ۔ منگل کی رات تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک حوثي نے اپنے براہ راست ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ حکومت میں عوامی شراکت کا مطالب بغاوت نہيں ہے۔ تحریک انصاراللہ نے حکومت کے سامنے چار شرطیں پیش کی تھیں اور کہا تھا کہ اگر وہ ان شرطوں کو قبول کرلے تو ملک کا بحران حل ہوجائے گا ۔ انصاراللہ تحریک کا کہنا تھا کہ نئے آئین کے مطابق قومی کابینہ میں اصلاح کی جائے اور نئی آئینی ترمیم میں پائے جانےوالے نقائص کو دور کرکے امن معاہدے کو فوری طور پرنافذ کیا جائے ۔انصاراللہ تحریک کی چوتھی شرط یہ تھی کہ ملک خاص طور پر صوبہ مارب کی سیکورٹی کی صورتحال کو بہتربنایا جائے ۔ یمن سے موصولہ خبروں میں کہا گيا ہے کہ منصورہادی نے عوامی انقلابی تحریک انصارللہ کی یہ چاروں شرطیں تسلیم کرلی ہیں۔ دوسری جانب خلیج فارس تعاون کونسل نے اپنے مداخلت پسندانہ بیان میں یمن کی موجودہ صورتحال کو ایک بغاوت سے تعبیر کیاہے۔ ریاض میں اپنے ہنگامی اجلاس کے دوران خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیاں میں کہا ہے کہ یمن ميں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک بغاوت ہے ۔ خلیج فارس تعاون کونسل کا یہ مداخلت پسندانہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمنی صدر کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ اور صدر منصورہادی کے درمیان سارے ہی معاملات تقریبا حل ہوگئے ہيں ۔ واضح رہے کہ یمن کو چھے علاقوں میں تقسیم کرنے کے حکومتی منصوبے پر ہی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ نے شدید احتجاج کیا تھا اورصدر کو خبردار کیا تھا کہ وہ نئے آئینی ترمیمی بل کے مسودپر جس میں ملک کو تقسیم کرنے کی بات کی گئي ہے، باز رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169