اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايراني وزير خارجہ 'محمد جواد ظريف' اور ان كے امريكي ہم منصب 'جان كري' نے باقاعدہ مذاكراتی نشست منعقد كرنے سے پہلے 10 منٹ چہل قدمي بھي كي.
جنيوا عارضي جوہري معاہدے كي توسيع ميں 6 ہفتے گزرنے كے بعد ايراني اور امريكي وزرائے خارجہ گزشتہ روز جوہري مذاكرات ميں تيزي لانے اور حتمي معاہدے طے كرنے كے لئے اہم ملاقات كي ہيں.
اس وقت ايران اور گروپ 1+5 بالخصوص امريكہ كے درميان تين چيزوں پہ اختلافات ہيں جن ميں يورنيم كي افزودگي، اقتصادي پابنديوں كا اٹھايے جانا اور حتمي معاہدے كي معياد شامل ہيں.
ايراني وزير خارجہ جمعرات كے روز اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات كے لئے برلن جائيں گے مگر ايران اور امريكي نائب وزرائے خارجہ جنيوا ميں جوہري مذاكرات جاري ركھيں گے.
دورہ جرمني كے بعد محمد جواد ظريف برسلز اور پيرس جائيں گے جہاں ان كي يورپي يونين كي پاليسي چيف اور فرانسيسي وزير خارجہ سے اہم ملاقاتيں متوقع ہيں.
ايراني جوہري مذاكراتي ٹيم كي قيادت نائب وزراء خارجہ 'سيد عباس عراقي' اور 'مجيد تخت روانچي' كررہے ہيں جبكہ امريكي وفد كي قيادت نائب وزير خارجہ وينڈي شرمن كررہي ہيں.
گزشتہ 24 نومبر كو ايران اور گروپ 1+5 نے مشتركہ بيان ميں اعلان كيا كہ ايران جوہري مذاكرات اور جينوا عارضي معاہدے كي معياد ميں 30 جون 2015 تك توسيع كردي گئي ہے.
جنيوا مذاكرات ميں فريقين پيچھلے مذاكرات ميں ہونے والے پيشرفت كا جائزہ ليں گے اور ان مذاكرات كو جاري ركھنے كے حوالے سے تبادلہ خيال كيا جائے گا.
جوہري مذاكرات اس وقت ايك اہم موڑ پر پہنچ چكے ہيں كيونكہ ايران اور عالمي طاقتوں نے آئندہ سال تك حتمي جوہري معاہدے طے پانے كے ليے انتہائي اہم مذاكرات كريں گے.




۲۴۲