13 جنوری 2015 - 14:20
عراقی عوام داعش کے خلاف جنگ میں ایرانیوں کو اپنا بہترین ساتھی سمجھتے ہیں

تہران حكومت كي مسلسل حمايت اور تعاون سے عراق نے كاميابي كے ساتھ داعش كے دہشتگردوں كو بغداد كے حدود ميں آنے سے روكا اور ايرانيوں كي حمايت كے ساتھ ساتھ باقي علاقوں ميں بھي دہشتگردوں كو شكسے دے ديں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اے.پي نيوز ايجنسي كے مطابق؛ عراقي قوم سمجھتي ہيں كہ دہشتگرد گروہ داعش كے خلاف جنگ ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے تعاون اور كردار بہت اہم ہے مگر اس حوالے سے امريكي قيادت مغربي اتحاد بے بس ہوئے ہيں.
تہران حكومت كي مسلسل حمايت اور تعاون سے عراق نے كاميابي كے ساتھ داعش كے دہشتگردوں كو بغداد كے حدود ميں آنے سے روكا اور ايرانيوں كي حمايت كے ساتھ ساتھ باقي علاقوں ميں بھي دہشتگردوں كو شكسے دے ديں.
امريكي خبر رساں ادارے كي اس رپورٹ كے مطابق؛ اسلامي جہوريہ ايران دہشتگردي كے خلاف عراقي حكومت سے مخلصاںہ تعاون كر رہا ہے جس كے نتيجے ميں امريكيوں كے نام نہاد تعاون اور كردار پر سواليہ نشان اٹھا ہے.
ايسوسي ايٹڈ پريس نے عراق ميں تعينات امريكي سفير 'اسٹيورٹ جونز' كے نقل سے لكھا ہے كہ داعش كے خلاف جنگ ميں تہران كا عراقي حكومت كے ساتھ تعاون نہايت اہم ہے مگر ايران اور امريكہ كے درميان عراقي حدود ميں دہشتگردوں كے خلاف آپريشن ميں كوئي ہم آہنگي موجود نہيں.
امريكي يونيورسٹي سيراكيوز كے شعبہ مشرق وسطي اسٹڈيز كے ڈائريكٹر اور تجزيہ نگار 'مہرزاد بروجردي' كا كہنا ہے كہ عراق كے مختلف علاقے بالخصوص كردستان خطے ميں داعش كے خلاف كاروائيوں ميں ايران كے كردار اور اقدامات بہت اہم اور موثر ہيں.
وائس آف امريكہ كے فارسي سروس كے ساتھ ايك انٹرويو ميں انہوں امريكي خبر رساں ادارے كي رپورٹ پر تبصرہ كرتے ہوئے انہوں نے مزيد كہا كہ ايسوسي ايٹڈ پريس كي رپورٹ حقائق پر مبني ہے اور ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ ايران پر مسلط شدہ آٹھ سالہ جنگ كے باوجود اب بھي عراقي قوم كے درميان ايرانيوں كے لئے مثبت حمايت ديكھنے كو ملتي ہے.
بروجردي نے مزيد كہا كہ عراقي عوام بالخصوص وہاں بسنے والي شيعہ برادري ايران كي خدمات كو قدر كے نگاہ سے ديكھتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ اكثريت عراقي امريكيوں سے ناراضي اور ان كے اقدامات پر تحفظات ركھتے ہيں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲