7 جنوری 2015 - 07:53
سزائے موت پر پابندی کاخاتمہ، نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی

پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا ۔ سزائے موت پر عمل درآمد کا آغاز 19 دسمبر کو ہوا جب جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مجرم ارشد محمود کوفیصل آباد جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ 21 دسمبرکو پرویز مشرف پر حملے کے مزید 4 مجرموں کو فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دی گئی جن میں اخلاص احمد عرف روسی، غلام سرور، زبیراحمد اور راشد محمود عرف ٹیپو شامل ہیں۔ 31 دسمبر کو سینٹرل جیل پشاور میں سابق صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث ایک اور مجرم نیاز محمد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ۔ ملتان میں آج صبح کالعدم تنظیم کے دو دہشتگردوں احمد علی عرف شیش ناگ اور غلام شبیر عرف ڈاکٹر کو پھانسی پر لٹکایا گیا جنہوں نے پانچ افراد کو قتل کیا تھا ۔ اس طرح اب تک مجموعی طور پر 9 دہشت گردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے ۔

.......

/169