اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے بارہ ٹی وی چینلوں منجملہ العربیہ ، العربیہ الحدث اور الجزیرہ کو دہشت گردوں کے حامی چینلوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے-
عراقی وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ عراق کے محکمہ اطلاعات و نشریات کے اس خط کے بعد کیا ہے جس میں کہا گيا ہے کہ دہشت گردوں کے حامی ٹی وی چینلوں کے خلاف موثرکاروائي کی جائے -
عراق کے محکمہ اطلاعات ونشریات نے اسی طرح عراق میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کے سربراہ سے بھی کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کو ہوا دینے والے اور عراق مخالف ٹی وی چینلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئي کریں - عراق کے محکمہ اطلاعات و نشریات نے انسداد دہشت گردی کے ادارے سے کہا ہے کہ وہ بغداد اور ملک کے سبھی صوبوں میں دہشت گردوں کے حامی چینلوں کے دفاتر بند کردے –
عراق اور شام میں تکفیری دہشتگرد گروہوں کی حالت خراب ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا منطقی انجام قریب آگیا ہے -
عراق میں فوجی اور عوامی رضاکاروں سے داعش کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ جاری ہے تو شام میں مختلف تکفیری دہشتگرد گروہوں کے درمیان تصادم بھی جاری ہے -
شام کے ذرائع کے مطابق اس مرتبہ جبہت النصرہ کی مانند ، تکفیری دہشت گرد گروہ " جیش الاسلام" اس بہانے سے کہ جیش الامہ، مفسد فی الارض ہے ، اس گروہ کے افراد کو اچانک کاروائی کرکے موت کے گھاٹ اتار نا شروع کردیا ہے-
اس سلسلے میں جیش الامہ نامی تکفیری دہشتگرد گروہ نے اپنے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ وہ بہت جلد اپنی صفوں کو منظم کرکے جیش الاسلام کے خلاف ایک بھرپور کاروائی کرے گا-
واضح رہے کہ جیش الاسلام دہشتگرد گروہ کی کاروائی میں جیش الامہ کا سرغنہ مارا گيا ہے-
ادھر حلب کے شمالی علاقے میں بھی دہشت گرد گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں-
بتایا جاتا ہے کہ ان جھڑپوں میں بھی جبہت الاسلامیہ نامی تکفیری دہشتگرد گروہ اور داعش نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے -
آخری اطلاع ملنے تک مذکورہ دنوں تکفیری دہشتگرد گروہوں کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں - شامی ذرائع کاکہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب داعش کے افراد نے حلب کے شمال میں واقع شہر مارع کے دلحہ سیکٹر میں جبھتہ الاسلامی کے ٹھکانوں میں دراندازی کرنے کی کوشش کی-
دوسری جانب عراق سے موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ داعش گروہ اپنی شرمناک زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے - جن علاقوں پر اس نے قبضہ کررکھا تھا، یکے بعد دیگرے وہ علاقے ، اس کے ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب عراقی افواج کی کامیابیوں کی خبریں نہ ملتی ہوں -
مسلسل شکستوں کے بعد داعش گروہ نے بوکھلاہٹ میں اپنے اراکین حتی کمانڈروں کو بھی سزائے موت دینا شروع کردیا ہے
تازہ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ اپنے چھیاسی کمانڈروں کو خیانت کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارچکا ہے –
عراق کے وزیر داخلہ محمد سالم الغبان نے کہا ہے کہ دیالہ، الانبار، صلاح الدین اور نینوا چاروں، صوبوں میں عراقی افواج سے مسلسل ہزیمت اٹھانے کے بعد داعش گروہ اپنے حوصلے ہار چکا ہے جبکہ عراق کی فوج اور عوامی رضاکاروں کے حوصلے کافی بلند ہیں اور وہ بہت تیزی کے ساتھ موصل کی جانب بڑھ رہے ہیں –
.......
/169