10 دسمبر 2014 - 20:01
سي آئي اے کي ايذا رسانيوں کے بارےميں امريکي سينٹ کي رپورٹ

امريکي سينٹ نے بوش حکومت کے دور ميں دہشتگردي کے شبہ ميں گرفتار لوگوں سے تفتيش کے دوران سي آئي اے کي ايذا رسانيوں کي رپورٹ جاري کردي ہے -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سنيٹر ڈيان فينسٹين نے منگل کے روز يہ رپورٹ جاري کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردي کے شبہ ميں گرفتار لوگوں کے ساتھ سي آئي اے کي تفتيش کي روش اس سے کہيں زيادہ بھيانک تھي جسکے بارے ميں اس نے بتايا تھا-

چھے ہزار دو سو صفحات پر مشتمل يہ رپورٹ سينيٹ کي خفيہ کميٹي نے پانچ سال ميں ترسٹھ لاکھ دستاويزات کا جائزہ لينے کے بعد تيار کي ہے –
منگل کو اس رپورٹ کا خلاصہ جاري کيا گيا ہے جو پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے -
اس رپورٹ کے مطابق سي آئي اے کے ايجنٹ بعض قيديوں کو ايک ايک ہفتے تک سونے نہيں ديتے تھے، انہيں گھونسے مارتے تھے اور کچھ قيديوں کو اتنے تنگ صندوق ميں بند کرديتے تھے کہ وہ ہل بھي نہيں سکتے تھے-

رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ قيديوں کو ايذائيں دينے کے ساتھ ہي باربار جان سے مارنے کي دھمکي بھي دي جاتي تھي-

سنيٹر فينسٹين نے رپورٹ کے آخر ميں تحقيقات کے نتائج بيان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار لوگوں سے اطلاعات کے حصول کے لئے سي آئي اے کي تفتيش کي روش ايک بے فائدہ حربہ تھي- دوسرے يہ کہ سي آئي اے نے قيديوں سے اطلاعت حاصل کرنے کے پروگرام کو لاگو کرنے کے دوران وائٹ ہاؤس، وزارت قانون، امريکي کانگريس اور عوام کو بہت سي غلط اطلاعات فراہم کيں- تيسرے يہ کہ اس پروگرام پر سينٹ کي نگراني بہت ہي ناقص تھي- اسي طرح وہ آخر ميں کہتي ہيں کہ دہشتگردي کے شبہے ميں گرفتار لوگوں سے تفتيش کا طريقہ اس سے کہيں زيادہ بھيانک تھا جس کا اس سے پہلے سي آئي نے اپني رپورٹ ميں ذکر کيا تھا-
واضح رہے کہ سينٹ ميں اس رپورٹ کے پيش کئے جانے سے پہلے پوري دنيا ميں امريکي سفارتخانوں اور فوجي چھاونيوں سميت تمام اہم امريکي مراکز اور تنصيبات کي سيکورٹي سخت کر دي گئي تھي-
رپورٹ جاري ہونے کے بعد ريپبليکن سنيٹر جان ميک کين نے کہا کہ وہ ان تمام امريکي مردوں اور خواتين کا شکريہ ادا کرنا چاہتے ہيں جو سي آئي اے اور ديگر امريکي انٹيليجنس ايجنسيوں ميں کام کرتے ہيں –
انہوں نے اسي کے ساتھ اعتراف کيا کہ سي آئي اے نے دہشتگردي کے شبہے ميں گرفتار ہونے والوں سے اطلاعات حاصل کرنے کے لئے ، سي آئي اے کي ايذارساني کي روش ناکام رہي ہے –
سنيٹر ميک کين نے کہا کہ وہ سمجھتے ہيں کہ امريکي عوام کا حق ہے کہ انہيں بتايا جائے کہ ان کے نام پر کيا کيا جارہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ امريکي عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے نام پر کئے جانے والے اقدامات امريکي مفاد ميں تھے يا نہيں ؟ ميک کين نے کہا کہ حقيقت بعض اوقات اتني کڑوي دوا بن جاتي ہے کہ اس کا نگلنا مشکل ہوتا ہے –

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حقائق ہمارے لئے ملک کے اندر اور باہر، مشکلات پيدا کرديتے ہيں اور امريکا کے دشمن ان سے فائدہ اٹھاکے ہميں نقصان پہنچانے کي کوشش کرتے ہيں –

دوسري جانب امريکي صدر باراک اوباما نے اس رپورٹ پر اپنے ردعمل ميں کہا ہے کہ دہشتگردي کے خلاف مہم ميں ايذارساني بے تاثير رہي ہے - انہوں نے ايک بيان جاري کرکے اعتراف کيا ہے کہ گيارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشتگردي کے شبہے ميں گرفتار ہونے والوں سے تفتيش کے دوران ايذارساني سے امريکا کي شبيہ خراب ہوئي ہے –

باراک اوباماما نے کہا کہ گيارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشتگردي کے خلاف مہم ميں ان کے پيشرو، جارج بش کے لئے روشوں کا انتخاب بہت مشکل تھا - انہوں نے کہا کہ جارج بش کے دور حکومت ميں بقول ان کے بعض اچھے کام بھي انجام پائے ليکن بعض اقدامات امريکي اصولوں اور مفادات کے منافي تھے –
.......

/169