9 دسمبر 2014 - 03:38
شام پر اسرائیل کا ہوائی حملہ، پس پردہ اہداف و مقاصد کیا ہیں؟

غاصب صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب حملہ کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق  صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں نے کل دمشق کے مغربی علاقے میں شراعی ائرپورٹ اور ریف قنیطرہ میں شام کی فوج 90 بریگیڈ کے ہیڈ کواٹر پر بمباری کی جس کے جواب میں شام کی فوج نے ایک راکٹ فائر کر کے صہیونی حکومت کے ایک جنگی طیارے کو مار گرایا یہ صہیونی جنگی طیارہ شام کے جنوب میں واقع ریف درعا میں حارہ شہر کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ غاصب صہیونی حکومت کے جنگی طیارے گذشتہ تین برسوں کے دوران کئی مرتبہ شام کی ارضی حاکمیت کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔ اس موضوع پر ہمارے ساتھی نےعالمی امور کے تجزیہ نگار سجاد میر سےگفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ صیہونی حکومت نے مظلوم فلسطینیوں پر جارحیت کے بعد اب شام پر حملہ کیا، اس حملے سے وہ کن مقاصد کے درپے ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا۔
سجاد میر کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے
شام کے خلاف گذشتہ 3 برسوں سے تسلط پسند طاقتوں کی جانب سے طاقت کا استعمال ہو رہا ہے تاکہ بشار اسد کی عوامی اور قانونی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے جس میں وہ ناکام رہے اور اب اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے ایک ایسی حکومت کا سہارا لیا گیا جس کا وجود ہی غیر قانونی ہے اور جس کا ہاتھ مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہے لیکن اسرائیل کے حملے کے بعد صیہونی حکومت کو اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب شام کی فوج نے ایک راکٹ فائر کر کے صہیونی حکومت کے ایک جنگي طیارے کو مار گرایا ۔ غاصب صہیونی حکومت کے جنگي طیارے گذشتہ تین برسوں کے دوران کئی مرتبہ شام کی ارضی سامیت اور حاکمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے مختلف علاقوں پر دہشتگردوں کے فائدے میں بمباری کرچکے ہیں اس لئے کہ جن دہشتگرد گروہوں کو اسلامی ملکوں کے خلاف استعمال کرنے کیلئے بنایا گیا اور انھیں دہشتگردی کی ٹریننگ دی گئی ان کی ناکامی کے بعد اب صیہونی حکومت نے شام پر حملہ کیا تاکہ ایک جانب سے شام کی فوج کو کمزور کیا جائے اور دوسری جانب دہشتگردوں کے حوصلے کو بلند کیا جائے تاکہ ایک بار پھر وہ حکومت شام کے خلاف اپنی کارروائیاں منظم طریقے سے شروع کریں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اور تسلط پسند طاقتیں شام کو کیوں نشانہ بنا رہی ہیں؟ اس لئے کہ شام صیہونی حکومت کے خلاف مقاومت اور استقامت کے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ بات امریکہ اور صیہونی حکومت کو پسند نہیں ہے اس لئے شام کو راستے سے ہٹانے کیلئے گذشتہ 3 سال سے شام کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک نے اتحاد تشکیل دیا ہے تاکہ اسرائیل کو بچایا جا سکے اسی لئے شام کی حکومت کے خلاف دہشتگرد گروہ داعش اورالنصرہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا اعتراف پہلی مرتبہ سرکاری طور پر روس نے کیا۔ روس کے سینئیر مشیر الیگزینڈر پروخانوف نے مشرق وسطی میں داعش کی دہشتگردانہ کارروائيوں کے حوالے سے اسرائیلی فوجیوں کے کردار سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد دہشتگرد گروہ داعش کے سرغنوں کو انٹیلی جنس کی تربیت دیتی ہے۔ الیگزینڈر پروخانوف نے کہا کہ داعش اور اسلام میں تضاد پایا جاتا ہے اور داعش خطے میں خوف و ہراس پھیلانے ، ایران اور روس کو دھمکی دینے اور یورپ کو ڈرانے کے سلسلے میں امریکہ کا آلۂ کار ہے۔
حالیہ چند برسوں میں دھشتگرد تکفیری گروہ داعش نے شام اور عراق میں ان ممالک کے عوام کے خلاف کچھ اس قسم کا ظلم و ستم کیا جو نہ فقط دین مبین اسلام کی تعلیمات کے برخلاف ہے بلکہ انسانیت سوز اور انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ لہذا دہشتگردی اور تکفیری فکر سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے مابین اتحاد داعش جیسےتکفیری سوچ رکھنے والے گروہوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جو اسلام کے خلاف اور انحرافی سوچ و فکر کےمالک ہیں اہم اورضروری دکھائی دیتا ہے اس لئے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے مابین داعش جیسے تکفیری گروہ کے ذریعے اختلافات ڈالنے اور اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

.......

/169