9 دسمبر 2014 - 03:33
چہلم ميں شرکت کے لئے دس لاکھ سے زائد زائرين کي کربلاروانگي

سيد الشہدا حضرت امام حسين عليہ السلام کے چہلم کے موقع پر کربلائے معلي جانے والے مختلف ملکوں کے زائرين کے کارواں عراق پہنچنا شروع ہوگئے ہيں -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اب تک دس لاکھ سے زائد غير ملکي زائرين عراق پہنچ چکے ہيں جن ميں ، ساڑھے سات لاکھ ايراني زايرين بھي شامل ہيں - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ زميني اور ہوائي راستوں سے غير ملکي زائرين کے عراق پہنچنے کا سلسلہ جاري ہے -

ہفتہ تيرہ دسمبر مطابق بيس صفر کو نواسہ رسول حضرت امام حيسن عليہ السلام اور آپ کے بہتر جانثاروں کا چہلم ہے -

شہدا کربلا کا چہلم معمول کي کوئي سادہ سي رسم يا مجلس کا معمولي سا پروگرام نہيں ہے بلکہ مستند اعداد شمار کے مطابق يہ دنيا کا سب سے بڑا انساني اجتماع ہے کہ جس کي اساس اور بنياد دين اور معونيت پر استوار ہے کہ جس پر اس وقت ساري دنيا کي توجہ لگي ہوئي ہے-

عراق کي بحراني صورتحال اور داعش جيسے تکفيري اور دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں عام عراقي شہريوں کے قتل عام کے پيش نظر ، چہلم سيدالشہدا ، ايک بہترين منظر اور مناسب موقع ہے ، کہ اسلام کا حقيقي اور رحماني چہرہ دنيا والوں کے سامنے پيش کيا جائے جو اس سے بہت مختلف ہے جسے داعش اور ديگر تکفيري گروہ پيش کررہے ہيں-

چہلم کے اس عظيم الشان اور فقيد المثال موقع پرعراقي عوام تو جوق در جوق شرکت کرتے ہيں، ليکن اس موقع ايران ، پاکستان ، ہندوستان، افغانستان نيز امريکا اور يورپ سے لے کر جنوب مشرقي ايشيا تک اور ترکي سے لے کر وسطي ايشيا کے ملکوں نيز خليج فارس کے عرب ممالک کے لاکھوں زائرين کربلائے معلي ميں حاضري ديتے ہيں -
اسي مناسبت سے عراقي حکام نے قيام عاشورہ کے شہدا کے چہلم کے عظيم الشان اجتماع ميں شريک زائرين کي ميزباني کے لئے تياري کرلي ہيں-
کربلائے معلي کے متولي شيخ مہدي کربلائي نے چہلم امام عاليقام کي مناسبت سے زائرين کے موجيں مارتے ہوئے سمندر کي طرف اشارہ کرتے ہو‏ئے اس اجتماع کو پوري دنيا ميں ايک پرامن اور عظيم الشان اجتماع قرار ديا- انہوں نے کہا کہ امريکہ کے پروردہ گروہوں کي جانب سے دھمکيوں کے باوجود زايرين کا ٹھاٹيں مارتاہوا سمندر مسلسل کربلائے معلي کي جانب رواں دواں ہے کہ جس ميں زائرين کي شجاعت اور امن پسندي کا پہلو بھي خود نمائي کر رہا ہے-
چہلم امام عاليقام ، دنيا بھر ميں آپ کے چاہنے والوں کے درميان وحدت و يکجہتي کا محور و مرکز بن گيا ہے اس لئے کہ سبھي لوگ اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ امام حسين عليہ السلام کي حق کي آواز جو روز عاشور آپنے بلند کي تھي وہ آج بھي گونج رہي ہے-

چہلم سيد الشہدا کے اس روح پرور موقع پر جو جذبہ اور فلسفہ حاکم ہے وہ ، جہاد و شہادت اور عاشورا کا تسلسل ہے-
چہلم کےموقع پر مسلمانوں کا عظيم ترين اجتماع ، ايک اسلامي علامتي تحريک ہے کہ جو اہلبيت عليہم السلام کے چاہنے والوں اور آپ کے پيرووں کي طاقت کا مظہر بن گئي ہے اور اس کا ايک اہم ترين پہلو يہ بھي ہے کہ سيدا الشہدا کے ساتھ عقيدت محبت رکھنے والا ہر شخص اس بات کا متمني ہے کہ چہلم کے موقع پر کربلا معلي چلا آئے -
.......

/169