اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ سے شایع ہونے والے جریدے ویٹرنز ٹوڈے کے چیف ایڈیٹر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ پر امریکی تسلط قائم ہے اسلئے یہ عالمی ادارہ، شام پر صیہونی حکومت کے حملے کی مذمت نہیں کریگا۔ جیم ڈین نے اس عالمی نیوز چینل سے گفتگو میں شام پر اسرائیل کے حملے کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غور طلب بات ہے کہ صیہونی حکومت نے کیوں اس وقت، شام کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے یہ حملہ کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ، اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ عالمی سطح پر مسئلہ اٹھنے کے نتیجے میں اس کے وجود کو تقویت مل سکے۔ امریکہ سے شایع ہونے والے جریدے ویٹرنز ٹوڈے کے چیف ایڈیٹر جیم ڈین نے کہا کہ صیہونی حکومت کو اپنے اوپر تنقید کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی صرف امریکہ کے زیر اثر ہونے کی بناء پر، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جارہا ہے۔
۔۔۔
اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ
عرب لیگ نے اقوام متحدہ کے ڈھانچہ میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطین اور اس کے مقبوضہ علاقوں کے امور میں عرب لیگ کے نائب سکریٹری جنرل محمد صبیح نے عرب لیگ کی ایک کانفرنس میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے حق کے استعمال کی بناء پر دنیا کے اہم ترین مسائل منجملہ مسئلہ فلسطین کے حل میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں فوری طور پر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کی حمایت میں ابتک بیالیس سے زائد بار، ویٹو کے حق کا استعمال ہوچکا ہے اور یہ مسئلہ، اس بات کا متقاضی ہے کہ اس عالمی ادارے میں فوری طور پر اصلاحات عمل میں لائی جائیں۔
اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
شام کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے اسرائیل پر پابندی عائد کرنے اور شام پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت کو رکوانے کے لئے ہر طرح کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شام کے وزارت خارجہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے نام بھیجے گئے خط میں آیا ہے کہ شام، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پوری طاقت سے دمشق پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت کی مذمت کرے۔ وزارت خارجہ کے خط میں عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حالیہ جرائم کے پیش نظر اس حکومت پر پابندی عائد کرے ۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے دہشت گردی کے خلاف فوج کی کارروائیوں میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی بلکہ اس سے خطے کے امن و سلامتی کو مزید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اتوار کو دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک قریبی ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کئے۔ ان حملوں میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ شام کی وزارت خارجہ کے خط میں آیا ہے کہ اس حملے کا مقصد، اسرائیل کے اندر جاری کشیدگی و خلفشار سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا ہے کیونکہ اسرائیلی اتحاد انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔ خط میں آیا ہے کہ صیہونی حکومت نے عرب سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور علاقائی و بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کے قوانین کو مسلسل نظر انداز کرتی رہی ہے۔
شام کی وزارت خارجہ کے خط میں آیا ہے کہ یہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اور صیہونی حکومت کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور یہ حملے شام کی فوج کی پیشرفت کو روکنے اور دہشت گردوں کو کوریج دینے کے لئے کئے گئے ہیں۔
ادھر شام کی فوج کی مشترکہ کمان نے ایک بیان میں کہا کہ دمشق کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے، دہشت گردوں کی مدد کے لئے تھے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ حلب اور دیرالزور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں فوج کی پیشرفت اور دہشت گردوں کی شکست کے بعد یہ حملے کئے گئے ہیں۔ فوج نے اس حملے کو ملک کی خودمختاری و سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے حملوں سے دہشت گردوں کے خلاف فوج کی کارروائی میں فوج کا حوصلے متاثر نہیں ہوں گے۔
.......
/169