اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ايک ايسے وقت جب سعودي فرمانروا شاہ عبداللہ کي جانب سے داعش گروہ ميں شامل سعودي باشندوں کے خلاف قانوني کاروائي کئے جانے کے احکامات سے متعلق خبروں کا چرچا کيا جارہا ہے، شاہزادہ متعب بن عبداللہ نے شامي حکومت کے مخالف دہشتگرد گروہوں کے لئے ہنگامي بنيادوں پر اسلحے کي فراہمي پر تاکيد کي ہے -
لبنان کي آن لائن نيوز ايجنسي " السفير" کے مطابق شاہ عبداللہ کے بيٹے شاہزادہ متعب نے جو شاہي گارڈ کے وزير بھي ہيں ، شام کے تعلق سے امريکا اور سعودي حکومت کے درميان اختلاف کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ، امريکا سے درخواست کي ہے کہ شامي حکومت کے مخالف گروہوں کو اسلحے کي فراہمي کے ساتھ ہي ضروري ٹريننگ بھي دي جائے -
شاہزادہ متعب بن عبداللہ نے شام کے سلسلے ميں امريکي صدر باراک اوباما کے ساتھ اپني حاليہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے، شام ميں فوري طور پر فوجي مداخلت کي ضرورت پر تاکيد کي ہے -
شہزادہ متعب بن عبداللہ نے علاقے پر شام کے بحران کے اثرات کي طرف بھي اشارہ کيا اور کہا کہ شام اس وقت امريکي حکام کي ترجيحات ميں شامل ہے-
دوسري جانب لبنان کے ايک معروف دانشور " نضال حمادہ" کا کہنا ہے کہ سعودي عرب صيہوني حکومت کے بھروسے پر شام کے بحران کے سياسي حل کي مخالفت کے ضمن ميں صدر بشار اسد کي حکومت کو گرانے کي کوشش کررہا ہے ليکن شام ميں بشار اسد کي حکومت کے خاتمے کي صورت ميں سب سے زيادہ نقصان آل سعود کي حکومت کو پہنچے گا -
.......
/169