اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی صوبے الانبار میں فضائی کارروائی کے دوران داعش کا صوبائی امیر 25 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا، ہلاک ہونے والا سینان مطیب عراقی صوبہ الانبار کا امیر تھا۔ عرب ٹی وی کے مطابق سینان مطیب الانبار پر ہونے والی فضائی کارروائی میں مارا گیا، جبکہ اسی کارروائی کے دوران اس کے مزید 25 عسکریت پسند بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینان نے سینکڑوں قبائلیوں کو ہلاک کیا تھا۔ امریکہ داعش کے خلاف سنی قبائیل کو مسلح کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے، تاکہ داعش کے اس مضبوط مرکز کو کمزور کیا جاسکے۔ دوسری جانب عراق کے صوبہ الانبار کی انتظامیہ نے داعش کے ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے ہنگامی امداد کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صوبہ الانبار کی کونسل کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری اور عراقی فوج کی جانب سے داعش کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو دہشت گرد الانبار پر قبضہ کرسکتے ہیں۔
دوسری طرف شامی لڑاکا طیاروں کی شمال مشرقی شامی علاقے الرقعہ میں بمباری کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز اس علاقے کو حکومتی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ الرقعہ کو دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ اپنا ٴدارالخلافہٴ قرار دیتی ہے۔ ایک اور اپوزیشن گروہ نے عراق اور شام کی سرحد پر واقع اس علاقے پر حکومتی بمباری میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 170 بتائی ہے۔ شام میں سن 2011 سے جاری حکومت مخالف مسلح بغاوت میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ تین اعشاریہ دو ملین افراد بیرون ممالک جبکہ سات اعشاریہ چھ ملین اندرون ملک مہاجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔
.......
/169