اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج کے جنگی طیاروں نے ہيت قصبے میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید حملے کئے جس میں اس قصبے کا خود ساختہ گورنر اپنے 22 ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہوا ۔ سومريہ نیوز نے العبیدي کے حوالے سے بتایا کہ عراقی جنگی طیاروں نے منگل دیر رات مغربی رمادي سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہيت قصبے کے حی بكر نامی مقام پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں داعش کا خود ساختہ گورنر سنان متعب اپنے 22 ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہوا ۔
العبیدي کا کہنا ہے کہ فوج کے اس حملے میں دہشت گردوں کی پانچ گاڑیاں تباہ ہوئیں جنہیں وہ ہتھیاروں کی سپلائی کے لئے استعمال کرتے تھے۔
اس سے پہلے فوج نے 15 نومبر کو سنی قبیلے البو نمر کے تعاون سے ہيت قصبے کے قریب ایک مقام پر زبردست کارروائی کی تھی جس میں ہيت قصبے کا سابق خود ساختہ گورنر طالب مصعب مزل اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہلاک ہوا تھا۔ ادھر فوج نے رمادي کے سجاريہ، صوفیہ اور حسيبا علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے جس کے دوران ہونے والی کارروائی میں داعش کے 39 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
فوج نے اسی طرح مقامی قبائل کی مدد سے مغربی رمادي کے ہيت قصبے کے محبوبيہ علاقے کو داعش کے چنگل سے آزاد کرا لیا ہے جس کے دوران 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں کئی عرب ممالک کے شہری بھی تھے۔ فوج نے اس کارروائی میں سرکاری عمارتوں اور سڑک کے کنارے نصب 60 سے زائد بم برآمد کرکے ناکارہ کر دیئے۔
ادھر العالم ٹی وی چینل کے رپورٹر نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے جنوبی صلاح الدین کے بلد سٹی میں فائر کیے گئے دسیوں مارٹر گولوں کی زد میں آکر کئی عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ فوج نے اسی طرح اس علاقے میں دہشت گردوں کے ایک شدید حملے کو ناکام بنا دیا۔
.......
/169