اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بامبے ہائي کورٹ نے یہ مطالبہ، بنارسی والا اور عبدالقریشی کی جانب سے محرم میں ماتم کے نام پر چالیس دنوں کے دوران بچوں اور ماتم داروں کو تیزدھار ہتھیار، بلیڈ، چاقو اور تلوار کے زخم سے بچانے کے لئے دائر مفاد عامہ کی ایک درخواست پرسامنے آیا ہے۔
اس پٹیشن میں آیا ہے کہ یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی ميں عمومی مقامات پر ہوتا ہے۔ اس پٹیشن کے مطابق ایک شخص کا استعمال کیا ہوا چاقو دوسرا شخص بھی استعمال کرتا ہے جس سے مذہب کے نام پر بےگناہ افراد کو نقصاندہ بیماریاں اور خون منتقل ہوتا ہے۔ ججوں نے بچوں کو ہونے والے زخم کو نہایت سنگین موضوع قرار دیا ہے۔
مفاد عامہ میں دائر کی جانے والی اس پٹیشن کی سماعت جسٹس وی ایم کناڈے اور انوجا پربھودیسائی کی بینچ نے کی۔ اس پٹیشن میں آیا ہے کہ ماتم کے نام پر بچے کے سر کو تیز دھار کے ہتھیار سے زخم لگایا جاتا ہے اور کچھ جگہوں پر انہیں جلتے ہوئے انگاروں پر چلنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔
عرضی داخل کرنے والے وکیل گنرتن سداورتے نے زور دیا کہ ایرانی شیعہ اسے نہ صرف ممبئی بلکہ پورے مہاراشٹر میں کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دوسرے فرقے بھی ماتم کرتے ہیں لیکن اس طرح سے عقیدت کا اظہار کرنے کے طریقے کا قرآن، دین اور حدیث میں ذکر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اسے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
كناڈے نے پوچھا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو زخمی کرنے کی کیوں اجازت دی جاتی ہے؟جواب میں وکیل صفائی سندیپ شندے نے کہا کہ ان کی نیت کچھ غائبانہ طاقتوں کی دعا حاصل کرنا ہوتی ہے تاہم كناڈے نے کہا کہ ان میں سے کچھ بچے ہوتے ہیں۔
.......
/169