25 نومبر 2014 - 13:26
مذہبی اور داخلی اختلافات نے اسلامی معاشرے کو کمزور کر دیا ہے

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے قطر کی عدلیہ کے سربراہ سے ملاقات میں کہا ہے کہ مذہبی اور داخلی اختلافات نے اسلامی معاشرے کو آپس میں الجھا دیا ہے اور اسلامی معاشرہ کمزور ہوا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے قطر کی عدلیہ کے سربراہ سے ملاقات میں کہا ہے کہ مذہبی  اور داخلی اختلافات نے اسلامی معاشرے کو آپس میں الجھا دیا ہے اور اسلامی معاشرہ کمزور ہوا ہے۔

آیت اللہ ہاشمي رفسنجاني نے پیر کی صبح قطر کی عدلیہ کے سربراہ علی بن فطيس المري سے ملاقات میں کہا کہ قطر ایک مسلمان اور پڑوسی ملک ہے جس کی وجہ سے ایران کی خارجہ پالیسی میں دوحہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے شروع سے ہی ہمارے قطر کی حکومت اور عوام سے اچھے تعلقات رہے ہیں اور ہم تعلقات میں توسیع کے خواہش مند ہیں۔

تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے قرآن مجید کی اس آیت کا ذکر کرتے ہوئے جس میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیا گیا ہے، کہا کہ دنیا کے تقریبا ساٹھ ممالک میں ایک ارب ستر کروڑ آبادی مسلمانوں کی ہے اور اسلامی ملک مختلف شعبوں میں بے پناہ امکانات کے مالک ہیں اور اسی لیے وہ علاقائی و بین الاقوامی سطح پر فیصلہ کن پہلی طاقت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

آیت اللہ رفسنجاني نے کہا کہ اسلامی ممالک کے حکام کی جانب سے صحیح پالیسی اختیار نہ کئے جانے کی وجہ سے فلسطینی عوام اور اسلامی ممالک کے سلسلے میں غاصب صیہونی حکومت کے مظالم اور جرات میں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مسلمان ممالک کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام پر زیادہ توجہ دئے جانے کا مطالبہ کیا۔

علی بن فطیس المري نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک ایران سے تعلقات میں توسیع کا خواہاں ہے۔

.......

/169