اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کی رات ٹیلی ویژن اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کی منطق مذاکرات اور گفتگو ہے جو حتمی معاہدے تک پہنچنےکے لئے جاری رہےگي۔
ڈاکٹر روحانی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حکومت، ایران کے ایٹمی حقوق سے پیچھے نہيں ہٹی اور نہيں ہٹے گی کہا کہ ایران اسلامی کی ایٹمی تنصیبات اور ٹیکنالوجی کے فعال رہنے کے سلسلے میں کوئي شک وشبہ نہيں ہے اور آج مذاکراتی فریق کو یقین ہے کہ ایران کے سامنے دباؤ اور پابندیاں لاحاصل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مذاکرات کا راستہ حتمی معاہدے پر منتج ہوگا تاکید کی کہ سینٹریفیوج کی سرگرمیاں ہرگز نہيں رکیں گی اور ایران کے عوام کی زندگی کا پہیہ بھی بخوبی چلتا رہے گا۔
ایران کے صدرنے میدان میں عوام کی موجودگی اور قوم کی جانب سے ملک کے اہم مسائل کا لمحہ بہ لمحہ مسلسل جائزہ لئے جانے کے امر کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کو جو بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ عوام کی موجودگی ، قومی اجماع، اور رہبرانقلاب اسلامی کی حمایت کے پرتو میں ہے۔
صدر حسن روحانی نے کہا کہ اب پہلی والی صورت حال نہيں ہے آج ایران ایسی پوزیشن میں ہے کہ دنیا میں کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ایران سے گروپ پانچ جمع ایک کی بات منوانے کے لئے پابندیاں بڑھائي جانی چاہئے اور کوئي بھی یہ نہيں کہتا کہ معاہدے کے حصول کے لئے ایران پر مزید دباؤ ڈالا جانا چاہئے۔
اسلامی جمہوریہ ایرا ن کے صدر نے کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک آج کہتے ہیں کہ اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے مزید وقت اور مزید گفتگو انجام پانی چاہئے اور یہ اس راہ کے لئے ایک کامیابی ہے جو ملت ایران نے گذشتہ سال کے انتخابات سے شروع کی اور وہ سیاسی کارنامہ انجام دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ایران کے ساتھ صرف گفتگو، منطق اور مذاکرات کے ذریعے ہی مذاکرات کوآگے بڑھایا جاسکتا ہے اورکسی دوسرے راستے یا وسیلے کو استعمال کرنے کا کوئی راستہ نہيں ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں کسی کو بھی اس بات میں شک وشبہ نہيں ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین پر یورے نیم کی افزودگی سمیت ایٹمی ٹیکنالوجی رکھنے کا حق ہے اور کسی کو بھی شک نہيں کہ پابندیاں اٹھائی جانی چاہئے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج دنیا جانتی ہے کہ پابندیوں اور دباؤ کے زیرعنوان جو راستہ انتخاب کیاگیا ہے وہ غلط راستہ تھا اور اس سے کچہ حاصل نہيں، بنابرایں جو راستہ انتخاب ہوا، وہ دنیا کے ساتھ اشتراک عمل کا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم نے کبھی ملت ایران اور رہبرانقلاب اسلامی کی معین کردہ ریڈلائن عبور نہيں کی ہے اور اسی تناظر میں ایٹمی مسئلے اور دوسرے مسائل میں کامیابی حاصل کی ہے۔
.......
/169