اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا: دمشق کے شیخ احمد کفتار انسٹیٹیوشن کے مدیر محمد شرف الصواف نے آج قم میں جاری دو روزہ "علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" میں اپنے بیان میں کہا:شام میں تکفیری عناصر اسلام کے نام پر اس ملک کو تباہ کرنے اور مسلمانوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا:تکفیری عناصر سامراج کے ہاتھوں کی کٹھپتلی بن کے رہ گئے ہیں تاکہ صہیونیت سکون سے رہ سکے اور مستقبل میں اسرائیل کی بقا کی خاطر اسلامی ممالک کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔
اس شامی عالم دین نے کہا:اس وقت شام (اپنے کئے کی) قیمت چکا رہا ہے،کیوں یہی وہ ملک تھا جس نے ہمیشہ اسلامی مزاحمت کا ساتھ دیا اور اسلامی اتحاد کے لئے کوشاں رہا۔اسلام عقیدوں کی آزادی کا معتقد ہے اور مسلمانوں نے محبت و الفت کے ساتھ غیر مسلم اقوام کے دل جیتے ہیں۔ اس اسلام نے دنیا کو فتح کیا جو محبت و الفت کا دین تھا۔
تکفیریوں کے جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر شہید محمد رمضان سعید البوطی انہیں تکفیریوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔تکفیریوں نے امت مسلمہ کے ایک جوان کو ورغلایا تاکہ وہ مسجد میں جاکر اپنے کو اڑا دے اور اس طرح اس گرانقدرعالم اور دیگر مومنین کو شہید کر دے ۔
شیخ احمد کفتار انسٹیٹیوٹ کے مدیر نے ایران کی جانب سے ہونے والی شام کی حمایت کی قدر دانی کی اور کہا:شامی عوام، شام کے حقوق و حدود کے دفاع میں ایران کے کردار کا شکریہ ادا کرتی ہے۔میں شامی عوام اور شامی علماء کی طرف سے علماء اسلام سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے ملک کی عوام کو یہ بتائیں کہ شام پر صرف اس لئے دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ (لبنان اور فلسطین میں) اسلامی مزاحمت کی حمایت کرنا چھوڑ دے۔اس وقت شام کرامت و عزت کی علامت بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے مذہبی شہر قم میں " علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" عنوان کے تحت کل دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہوا جو آج ممتاز مقالہ نگاروں کی قدر دانی اور مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی کی تقریر کے بعد اپنے اختتام کو پہونچے گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲