اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تحريک انصاراللہ کے ايک سينئر ليڈرعلي قہوم نےبتايا ہے کہ انصاراللہ کے جيالوں نے رداع شہر کے قبائلي نوجوانوں کے ساتھ ملکر اس اہم شہر پر اپنا کنٹرول قائم کرليا ہے -
انہوں نے کہا کہ شہر ميں امن قائم ہوچکاہے اور القاعدہ کے دہشت گرد يہاں سے فرار کرگئے ہيں- انصاراللہ تحريک کے جانبازوں کا کہنا ہے کہ اگر يمن کي فوج رداع ميں امن وامان برقرار رکھنے ميں کامياب رہي تو وہ اس شہر کي سيکورٹي پوري طرح يمني فوج کے سپرد کرکے يہاں سے نکل جائيں گے -
رداع شہر پر سن دوہزار بارہ سے القاعدہ کے دہشت گردوں کا قبضہ تھا - القاعدہ کے دہشت گردوں نے پچھلے مہينوں کےدوران يمني سيکورٹي فورس اور فوج کے اہلکاروں پر بارہا حملے کئے تھے - القاعدہ کے دہشت گردوں کي انصاراللہ تحريک کے جوانوں سے بھي خونريز جھڑپيں ہوئي ہيں -
يمن کي مرکزي حکومت ابھي تک القاعدہ کے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے ميں ناکام رہي ہے جبکہ حوثي قبائل کي انصاراللہ تحريک کےجوانوں نے سيکورٹي کے اس خلآء کو پر کرنے کےلئے دہشت گردوں کا مقابلہ کيا اور ملک کے بہت سے علاقوں سے ان کو نکال باہر کيا -
حوثي قبائل نے يمن کے سابق ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کي حکومت کو بھي برطرف کرنے ميں اہم کردار ادا کيا تھا.
.......
/169