اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری آپریشن فوجی مہم کے دوران اب تک 1200 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان فوج کے ایک سینئر افسر نے اتوار کو شمالی وزیرستان کے دورے کے موقع پر بتایا کہ آپریشن کی وجہ سے شدت پسندوں کے حملہ کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک 1200 کے لگ بھگ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس موقع پر ان کی تصاویر دکھانے سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ 230 شدت پسندوں کو گرفتار کرکے تقریباً 132 ٹن بارودی مواد قبضے میں بھی لیا گیا ہے۔
آپریشن کی وجہ سے تقریب 10 لاکھ افراد کو علاقے سے نقل مکانی کرنی پڑی اور ان میں سے بیشتر خیبرپختونخوا میں قائم کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جب متعدد خاندان افغانستان کی جانب بھی چلے گئے ہیں۔
میر علی شمالی وزیرستان کا دوسرا بڑا قصبہ ہے جہاں آپریشن سے قبل شدت پسندوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن آپریشن کی وجہ سے وہاں اب شاید ہی کوئی ایسی عمارت ہو جو کہ متاثر نہ ہوئی ہو۔
شمالی وزیرستان کے انچارج میجر جنرل ظفر اللہ خان کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں جس ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا وہ نہیں آیا ہے۔
ظفراللہ خان نے وہاں موجود امریکی ساختہ جیپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے دوران بھاری اسلحہ اور بارود کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کے زیراستعمال گاڑیاں قبضے میں لی گئی ہیں۔
.......
/169