15 نومبر 2014 - 17:07
فلسطيني مظاہرين اوراسرائيلي سکورٹي فورسز کے درميان جھڑپيں

غرب اردن کے شہر رام اللہ سے بيت المقدس کي طرف مارچ کرنے والے فلسطيني مظاہرين اور اسرائيلي سکورٹي فورسز کے درميان جھڑپيں ہوئيں-

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ہم قدس جا رہے ہيں، کے زير عنوان ريلي ميں تقريبا سو فلسطينيوں نے حصہ ليا- مظاہرين رام اللہ سے خاردار رکاوٹوں کي طرف بڑھے جو غرب اردن کو قدس سے الگ کرتي ہے- يہ ريلي مقبوضہ القدس شہر کے فلسطيني شہريوں کے ساتھ اظہار يکجہتي کے لئے منعقد کي گئي تھي-

اس ريلي کے کوارڈينيٹر ابو رحمي نے بتايا کہ مظاہرين ديوار حائل پر چڑھے اور قلنديہ ہوائي اڈے کي باونڈري پر لگے خاردار تار کو کاٹ کر قلنديہ ہوائي اڈے ميں داخل ہوگئے اور وہاں پر فلسطيني پرچم کو لہرايا-

مظاہرين جب قدس کے مضافاتي گاؤں ہزمہ کي طرف بڑھ رہے تھے کہ اسرائيلي فوجيوں کے ساتھ جھڑپ ہوئي جسکے دوران اسرائيلي فوجيوں نے فلسطيني مظاہرين کو تتر بتر کرنے کے لئے ان پر آنسو گيس کے گولے اور ربر کي گولياں فائر کيں-

اسپتال ذرا‏‏ئع کے مطابق اسرائيلي فوجيوں کے اس حملے ميں کئي فلسطيني زخمي ہوئے-

يہ مظاہرے ايسي حالت ميں ہوئے ہيں کہ تل ابيب حکومت نے کئي مہينے سے القدس ميں واقع مسجد الاقصي ميں فلسطينوں کے داخلہ کو روکنے کے لئے کئي کڑے اقدامات کر رکھے ہيں-

حالانکہ غاصب اسرائيلي حکومت کو دباو ميں آکر جمعہ کے روز سبھي عمر کے فلسطينيوں کو مسجد الاقصي ميں نماز  پڑھنے کي اجازت ديني پڑي-

گذشتہ کئي ہفتوں سے الاقصي مسجد کے پاس فلسطيني نمازيوں اور صيہوني فوجيوں کے درميان بہت بار جھڑپيں ہوئيں-

صيہوني حکومت کي طرف سے مسجد الاقصي ميں فلسطينيوں کے داخلہ کو روکنے کے لئے کھڑي کي گئي رکاوٹوں سے فلسطينيوں ميں بہت غم و غصہ ہے اور وہ اسے اسرائيلي حکومت کي مسجد الاقصي کو يہودي رنگ دينے کي سازش سمجھتے ہيں-

فلسطيني القدس کو مستقبل کے آزاد فلسطيني ملک کي دارالحکومت مانتے ہيں اور اسکي قومي ميراث کو اسکي اصل حالت ميں باقي رکھنے کا مطالبہ کرتے ہيں-

گذشتہ چند دہائيوں کے دوران غاصب صيہوني حکومت نے غير قانوني کالونيوں کي تعمير، تاريخي عمارتوں کي مسماري اور مقامي فلسطينيوں کو نکال کر  قدس کے آبادي کے لحاظ سے ڈھانچے کو بدلنے کي کوشش کي ہے-

۔۔۔۔۔۔۔

/169