اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سنیئر عراقی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ اطلاعات ملی ہیں جن کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی اور اب ہم اس پر کام کررہے ہیں۔ اس عہدیدار نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ابتدائی اطلاعات میں کیا حقائق سامنے آئے ہیں۔
اگر داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ عراقی فورسز کو اس دہشت گرد گروہ کے کنٹرول میں جانے والے علاقوں کو واپس حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوگی۔
برطانوی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل نکولس ہوگٹن نے اس بارے میں بتایا کہ ابھی داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جاسکتی اور ممکنہ طور پر اس کے لیے مزید کئی روز لگ سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رپورٹ تھی کہ عراق کےصوبہ الانبار کے مشرقی علاقے میں عالمی اتحاد نے اس مقام پر ہوائی حملہ کیا جہاں داعش کے سرغنوں کا اجلاس چل رہا تھا۔ اس حملے میں داعش کے 50 سرغنوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی ۔ مارے گئے دہشت گردوں میں داعش کا خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کا معاون ابو حذیفہ الیمانی بھی شامل تھا ۔
کچھ ذرائع نے داعش کے ٹھکانے پر بین الاقوامی اتحاد کے حملے میں اس دہشت گرد گروہ کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت اور شدید زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی تھی ۔ ابھی ابھی العالم ٹی وی چینل کے رپورٹر نے خبر دی ہے ابو بکر البغدادی بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گیا ہے اور اسے شام-عراق کے سرحدی علاقے البوکمال منتقل کر دیا گیا ہے۔
.......
/169