اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کے مرکز کے سربراہ نبیل رجب نے آج کہا کہ اگر اس ملک میں انتخابات، مخالف گروہوں اور جماعتوں کی شرکت کے بغیر انجام پائیں گے تو وہ ناکام ہوں گے اور یہ اقدام ،آل خلیفہ حکومت کی غیر جمہوری ماہیت کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحرینی حکام اس ملک کے مسائل کے حل کے درپئے ہیں تو انہیں مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ واضح رہے کہ بحرين ميں عوام کي جانب سے نمائشي پارليماني انتخابات کي مخالفت بڑھنے اور بائيکاٹ کے مطالبے ميں شدت آنے کے بعد بہت سے اميدواروں نے اپنے نام واپس لے لئے ہيں -مرات البحرين نيوزويب سائٹ نے بحرين کے اليکشن کميشن کے حوالے سے لکھا ہے کہ چار سو تراسی امیدواروں میں سے اب تک 53 پارليماني اور بلدياتي اميدوار اپنے نام واپس لے چکے ہيں اور انہوں نے پارليماني اور بلدياتي اليکشن ميں بطور اميدوار حصہ لينے سے انکار کرديا ہے جبکہ مزید امیدواروں کے نام واپس لینے کا امکان بھی موجود ہےاس لئے يہ نہيں کہا جاسکتا ہےکہ آئندہ انتخابات ميں کتنے اميدوار حصہ ليں گے - بحرين ميں پارليماني اور بلدياتي انتخابات آئندہ بائيس نومبر کو ہوں گے جبکہ بيرون ملک مقيم بحريني شہريوں کي ووٹنگ کا عمل اٹھارہ نومبر کو انجام پائےگا -
.......
/169